سہنسہ ،سرساوہ(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے حلقہ LA-11 (سہنسہ، سرساوہ، پنجیڑہ) کی سینئر لیڈرشپ اور نظریاتی کارکنوں نے پارٹی ٹکٹ کی غیر منصفانہ تقسیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی قیادت سے فیصلے پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کر دیا ہے ۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ موجودہ فیصلہ زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے ، جس سے حلقے میں جماعت کی پوزیشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔
مقامی سینئر قیادت اور نظریاتی کارکنوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مرکزی قیادت حلقہ LA-11 کے زمینی حقائق اور عوامی جذبات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہے ۔
اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے مبینہ طور پر اپنا ذاتی اثر و رسوخ استعمال کر کے ایک ایسے اُمیدوار (راجہ آصف) کی حمایت کی ہے جو سیاسی طور پر انتہائی کمزور ہیں اور عوامی سطح پر مقبولیت نہیں رکھتے ۔
کارکنوں کا مزید کہنا تھا کہ ٹکٹ کا فیصلہ کرتے وقت پارٹی کے دیرینہ، وفادار اور نظریاتی کارکنوں کی قربانیوں اور خدمات کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے ان کی تذلیل کی گئی ہے، جس سے ووٹرز اور سپورٹرز میں شدید مایوسی پھیلی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف سے شاہ غلام قادر اور طارق فاروق کی ملاقات، اہم فیصلے
مقامی قیادت کا ماننا ہے کہ مرکزی قیادت حلقہ LA-11 کے زمینی حقائق سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہے۔ اس لاعلمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہ غلام قادر (صدر مسلم لیگ ن، آزاد کشمیر) نے ذاتی اثر و رسوخ استعمال کر کے ایک ایسے امیدوار (راجہ آصف) کی حمایت کی ہے جو سیاسی طور پر انتہائی کمزور ہے ۔
حلقہ LA-11 کوٹلی کی سیاست میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہاں سے ایک غیر مقبول اُمیدوار راجہ آصف کو میدان میں اتارنے کا مطلب پارٹی کو براہِ راست شکست سے دوچار کرنا ہے، جو مسلم لیگ (ن) کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا ۔
مسلم لیگ (ن) یوکے کے سینئر وائس پریذیڈنٹ راجہ ساجد خان، حلقے کی سینئر قیادت اور نظریاتی کارکنوں نے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ حلقہ LA-11 کوٹلی 4 میں ٹکٹ کے اجرا ءکے فیصلے پر فوری طور پر نظر ثانی کی جائے ۔
انہوں نے زور دیا کہ ذاتی پسند ناپسند کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی ایسے اُمیدوار کو سامنے لایا جائے جو مضبوط سیاسی ساکھ رکھتا ہو اور جماعت کی جیت کو یقینی بنا سکے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کی تائید کرتے ہیں، شاہ غلام قادر کی وضاحت
انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ قیادت کارکنوں کے اس جائز اور آئینی مطالبے کو اہمیت دے گی تاکہ کوٹلی میں مسلم لیگ (ن) کا پرچم سربلند رکھا جا سکے ۔




