دلچسپ راز

جی سیون اجلاس : کھلے مائیک نے عالمی رہنماؤں کے دلچسپ راز افشاں کر دئیے

فرانس میں منعقدہ حالیہ جی سیون (G7) اجلاس اپنی سنجیدہ عالمی سیاست اور سفارتی فیصلوں کیساتھ ساتھ پسِ پردہ رونما ہونے والے انتہائی دلچسپ اور ہلکے پھلکے لمحات کی وجہ سے بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔

اس بار اجلاس کے دوران لگے کھلے مائیک (Open Mic) نے عالمی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایسی غیر رسمی گفتگو کو بھی بے نقاب کر دیا، جو عام طور پر منظرِ عام پر نہیں آپاتی، اور یوں کئی دلچسپ رازوں سے پردہ اٹھ گیا ۔

اجلاس کی ایک خوشگوار نشست میں اس وقت قہقہے گونج اٹھے جب اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے تھکن اتارنے کے لیے کافی کی خواہش ظاہر کی ۔

پاس ہی موجود جرمن چانسلر اولاف شولتز نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوراً مزاحیہ انداز میں پوچھا، ”اور ایک سگریٹ؟“ اس پر اطالوی وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے برجستہ جواب دیا، ”نہیں، میں ایک ماہ پہلے ہی سگریٹ نوشی چھوڑ چکی ہوں“۔

میلونی کے اس واضح جواب پر کمرے میں موجود تمام وفود کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔

اس بار عالمی سیاست کی میز پر فٹبال ڈپلومیسی کا تڑکا بھی دیکھنے کو ملا۔ قطر کے امیر نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کو فرانسیسی فٹبال کلب ’پیرس سینٹ جرمین‘ کی ایک حالیہ کامیابی پر روایتی انداز میں چھیڑا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جی سیون اجلاس : بھارتی وزیراعظم مودی امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے سرجھکائے بیٹھے رہے

میکرون نے بھی فوراً حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا اور جواب دیا، ”میں اس جیت پر بہت خوش ہوں، کیونکہ کچھ بھی ہو، آخر کار یہ ایک فرانسیسی ٹیم ہے“ ۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخصوص اور بے باک انداز کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بنے رہے ۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں ”ہینڈسم“ قرار دیا اور ایک فلسفیانہ جملہ کسا، ”جب آپ اتنے امیر اور بااثر ہوں، تو آپ کو اپنی بات منوانےکیلئے اونچی آواز میں بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی“ ۔

اسی دوران جرمن چانسلر نے صدر ٹرمپ کو جرمن فٹبال ٹیم کی ایک آفیشل جرسی بھی تحفے میں پیش کی، جس کی پشت پر خاص طور پر ”نمبر 47“ درج تھا، جو کہ امریکہ کے 47ویں صدر کے طور پر ٹرمپ کے انتخاب کی علامت تھا ۔

اجلاس کا سب سے یادگار اور دلچسپ لمحہ آخری روز دیکھنے کو ملا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہال میں داخل ہوئے اور انہوں نے روایتی خود اعتمادی کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا، ”آئی ایم دی باس“ (باس میں ہوں)۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پانی کو ہتھیار بنانے پر وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کا بھارت کو سخت انتباہ

ٹرمپ کے اس چٹکلے پر پورا ہال ایک بار پھر قہقہوں سے گونج اٹھا۔ یوں عالمی سیاست کے روایتی اور خشک ماحول میں یہ جی سیون اجلاس دنیا بھر کیلئے کئی یادگار اور خوشگوار یادیں چھوڑ گیا ۔