پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ویمنز دی ہنڈرڈ میں منتخب ہونے والی پہلی پاکستانی خاتون کرکٹر کا اعزاز حاصل کر لیا۔
انگلینڈ کی فرنچائز برمنگھم فینکس نے جمعرات کو ہونے والے وائلڈ کارڈ ڈرافٹ میں فاطمہ ثنا کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا، انہیں آسٹریلوی کھلاڑی لوسی ہیملٹن کی دستبرداری کے بعد دستیاب ہونے والے چوتھے اوورسیز اسکواڈ مقام پر منتخب کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:قومی ویمن ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نےٹی 20میں نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا
فاطمہ ثنا کو ٹورنامنٹ کی کم از کم تنخواہ 15 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 56 لاکھ پاکستانی روپے) ملیںگے تاہم پاکستان ویمن ٹیم کے 23 جولائی سے 4 اگست تک سری لنکا کے دورے کے باعث ان کی شرکت محدود رہنے کا امکان ہے۔
ان کا انتخاب ایسے وقت میں سامنے آیا جب انہوں نے ایجبسٹن میں جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
آل راؤنڈر فاطمہ ثنا نے 8ویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 38 گیندوں پر ناقابل شکست 55 رنز بنائے جبکہ بعد ازاں 16 رنز دے کر 3 وکٹیں بھی حاصل کیں اگرچہ پاکستان کو 2 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
فاطمہ ثنا اس سال دی ہنڈرڈ میں معاہدہ حاصل کرنے والی تیسری پاکستانی کرکٹر ہیں۔ اس سے قبل عثمان طارق بھی برمنگھم فینکس کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ اسرار اسپنر ابرار احمد کو مارچ میں ہونے والی نیلامی میں ایک لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ کے عوض سن رائزرز لیڈز نے اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا۔
کرکٹ حلقوں کے مطابق ابرار احمد کی شمولیت کے بعد یہ خدشات بھی کم ہوئے ہیں کہ ٹورنامنٹ میں بھارتی سرمایہ کاری کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وکٹیں نہ ملنے پر کپتان ویمن قومی ٹیم فاطمہ ثناکو والدہ نے کیا مشورہ دیا؟
وائلڈ کارڈ ڈرافٹ کے دوران ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی کئی کھلاڑیوں کو بھی مختلف فرنچائزز نے منتخب کیا۔ ہر فرنچائز نے اپنی ٹیم مکمل کرنے کے لیے 2 مرد اور 2 خواتین کھلاڑیوں کو کم از کم معاوضے پر اسکواڈ میں شامل کیا۔
واضح رہے کہ دی ہنڈرڈ کا رواں سیزن 21 جولائی سے 16 اگست تک کھیلا جائے گا اور یہ ٹورنامنٹ کا پہلا ایڈیشن ہوگا جس میں مختلف فرنچائزز کی جزوی یا مکمل ملکیت نجی سرمایہ کاروں کے پاس ہوگی۔



