کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما خواجہ مہران کے گھر چھاپہ، بھاری مقدار میں اسلحہ اور حساس آلات برآمد

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے میرپور کے علاقے ڈڈیال میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر خواجہ مہران کے گھر چھاپہ مار کر بھاری مقدار میں اسلحہ، جدید ڈرون اور چوری شدہ پولیس سامان برآمد کر لیا ہے۔

مشکوک سرگرمیوں پر سیکیورٹی اداروں کا ایکشن:

سال 2026 میں شرپسند عناصر کی کڑی نگرانی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔ راولاکوٹ دھرنے میں موجود کمیٹی کے اہم رہنما خواجہ مہران کے ڈڈیال والے گھر پر مشکوک سرگرمیوں کی خفیہ اطلاع ملی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے اچانک ایک کامیاب کارروائی کرتے ہوئے تلاشی کا عمل شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ احتجاج میں ملک دشمن ایجنڈا بے نقاب، سردار امان نے پاکستان کے خلاف زہر اگل دیا

گھر سے برآمد ہونے والا ممنوعہ سامان:

اس اچانک تلاشی کے دوران سیکیورٹی اداروں نے ملزم کے گھر سے ایک عدد جدید ڈرون، 12 بور کی گن معہ گولیاں، ایک عدد پسٹل، 4 یو ایس بیز اور 1 لیپ ٹاپ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ گھر سے اسلام آباد پولیس کے چوری شدہ آفیشل ہیلمیٹ سمیت دیگر سرکاری سامان بھی برآمد ہوا ہے جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

🚨🚨کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما خواجہ مہران کے گھر چھاپہ تلاشی کے دوران ڈرون، اسلحہ، گولیاں، پستول، یو ایس بیز، لیپ ٹاپ، پولیس کا سامان اور دیگر اشیاء برآمد۔ pic.twitter.com/1gE7H047Fb

گرفتار ملازم شاہد اسلم کے اعترافات:

چھاپے کے دوران حراست میں لیے گئے خواجہ مہران کے ملازم شاہد اسلم نے دورانِ تفتیش ایسے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں جنہوں نے حقوق کی تحریک کا دعویٰ کرنے والوں کا بھیانک چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ ملازم نے اعتراف کیا کہ راولاکوٹ دھرنے کے لیے روانگی سے قبل مہران نے گھر پر 2 ایمبولینسز منگوائی تھیں، جنہیں وہ عام طور پر غیر قانونی اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اسلحہ، منشیات اور فنڈنگ کی راولاکوٹ منتقلی:

ملازم کے بیان کے مطابق، دھرنے میں جانے سے پہلے خواجہ مہران اپنے ساتھ 4 سے 5 کلاشنکوفیں، 2 عدد 12 بور گنز، ڈبوں میں بند بے شمار گولیاں، گلیلیں، پتھر، کانچ کی ٹوٹی ہوئی بوتلیں اور 2 کلو چرس ساتھ لے کر گیا۔ اس کے علاوہ اسے ’لطیف ڈار‘ نامی شخص نے پیسوں سے بھرے ہوئے 2 بھاری پیکٹ لا کر دیے تھے، جو وہ اپنے ساتھ لے کر راولاکوٹ دھرنے میں چلا گیا۔

پولیس سے چھینی گئی شیلنگ گنز اور اشتہاری ملزمان:

شاہد اسلم نے انکشاف کیا کہ ملزم اپنے ساتھ وہ شیلنگ گنز (آنسو گیس گنز) بھی ایمبولینس کے ذریعے راولاکوٹ لے گیا ہے جو انہوں نے 29 ستمبر کے لانگ مارچ کے دوران ’پلاک پل‘ کے مقام پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کر کے چھینی تھیں۔ ملازم نے مزید بتایا کہ یہ ناجائز اسلحہ ہر وقت گھر پر موجود رہتا تھا اور خواجہ مہران نے اپنی حفاظت کے لیے 6 سے 7 اشتہاری ڈاکو اور منشیات مافیا کے خطرناک کارندے ملازم رکھے ہوئے تھے جن کی وہ پشت پناہی کرتا تھا۔

عسکری نیٹ ورک اور فنانشل لنک کا انکشاف:

آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں عوامی مطالبات کی آڑ لے کر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کے مذاکرات اور ریلیف پیکیج کے باوجود چند عناصر دھرنوں کے ذریعے انتشار پھیلانے کے ایجنڈے پر کاربند ہیں جس پر اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ مہران کے گھر سے کلاشنکوفیں، ہیلمیٹ، گلیلیں اور لطیف ڈار کی طرف سے فنڈنگ ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کوئی پرامن احتجاج نہیں بلکہ ایک باقاعدہ شہری گوریلا جنگ (اربنائزڈ ملٹنسی) کی تیاری تھی۔

طبی گاڑیوں کا معاندانہ استعمال اور جدید ٹیکنالوجی:
اسلحہ اور منشیات کی ترسیل کے لیے ایمبولینس کا استعمال سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا اسٹرٹیجک چیلنج ہے، کیونکہ شرپسند جانتے ہیں کہ ناکوں پر ان گاڑیوں کی تلاشی عام طور پر نہیں لی جاتی۔ اس کے علاوہ گھر سے جدید ڈرون، لیپ ٹاپ اور 4 یو ایس بیز کا ملنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ سیکیورٹی اداروں کی نقل و حرکت کی جاسوسی (سرویلنس) اور دھرنے کے مقامات کی فضائی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے تھے، جس کا ڈیٹا ان یو ایس بیز میں موجود ہو سکتا ہے۔