ریاض: سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے ان غیر ملکی کارکنوں اور ملازمین کے لیے اہم رہنمائی جاری کی ہے جنہیں مقررہ وقت پر تنخواہ یا اجرت ادا نہیں کی جاتی۔ حکام کے مطابق ایسے ملازمین جن کے آجر ان کی اجرت یا تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہیں، انہیں حقوق کے تحفظ کے لیے چند مخصوص اور اہم ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔
وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن ملازمین کو اپنے واجبات کی بروقت وصولی کے لیے اب طویل قانونی چارہ جوئی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ حکومت نے ایک ایسا خودکار اور جدید نظام متعارف کروا دیا ہے جس کے تحت آجر کی جانب سے کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کی صورت میں ملازم براہِ راست ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کر کے اپنے حقوق حاصل کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری
ملازمت کے معاہدے کی قانونی حیثیت:
وزارت نے وضاحت کی ہے کہ تنخواہوں کی بروقت وصولی کے لیے سب سے پہلے ملازم کو اس بات کی تصدیق کرنا ہوگی کہ اس کا معاہدہ قابلِ نفاذ ہے۔ اگر کسی ملازم کا معاہدہ اکتوبر 2025 کے بعد دستاویزی شکل میں رجسٹر یا اپ ڈیٹ کیا گیا ہے تو اسے قانون کے مطابق قابلِ نفاذ دستاویز تصور کیا جائے گا۔ وزارت نے ملازمین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے ملازمت کے معاہدوں کی قانونی حیثیت کی بروقت تصدیق لازمی کریں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے جانچ پڑتال:
سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق، کارکنوں کو سب سے پہلے “قیویٰ” پلیٹ فارم کے ذریعے یہ جانچنا ہوگا کہ ان کا رجسٹرڈ ملازمتی معاہدہ نفاذ کی قانونی حیثیت حاصل کر چکا ہے یا نہیں۔ اس ڈیجیٹل تصدیق کے بعد ملازمین قانونی طور پر اپنے واجبات کا کلیم کرنے کے اہل ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل سسٹمز کو مربوط کرنے کا مقصد تارکین وطن کے لیے قانونی طریقہ کار کو شفاف اور تیز رفتار بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: ملازمین کیلئے خوشخبری، 2ایڈہاک ریلیف الائونس بھی بنیادی تنخواہ میں ضم کرنیکا فیصلہ
لیبر کورٹ جائے بغیر واجبات کی فوری وصولی:
وزارت کے مطابق اگر تنخواہ کی مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد 30 دن تک آجر مکمل واجب الادا رقم ادا نہ کرے تو ملازم یا کارکن “ناجز” پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست نفاذِ حکم کی درخواست جمع کرا سکتا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے تحت آنے والے معاملات میں کارکنوں کو اب لیبر کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے یا پہلے مصالحتی مرحلے سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، جس سے تنخواہوں کی وصولی کا عمل مزید تیز اور آسان بن سکے گا۔




