غلاف تبدیل

خانۂ کعبہ کا غلاف تبدیل، 1410 کلوگرام وزنی کسوہ کی خصوصیات سامنے آگئیں

نئے ہجری سال 1448ھ کے بابرکت آغاز پر خانۂ کعبہ کو ایک پروقار اور روح پرور تقریب میں نیا غلاف (کسوہ) پہنا دیا گیا ہے۔ یہ ایمان افروز منظر دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا، جبکہ اس نئے غلاف کی تیاری کو مکمل کرنے کے لیے سعودی عرب کے 150 ماہر کاریگروں نے قریباً 11 ماہ تک مسلسل کام کیا۔

سعودی حکام کی نگرانی میں ہر سال کی طرح اس بار بھی ہجری سالِ نو کے موقع پر غلافِ کعبہ کی تبدیلی کا یہ مقدس عمل انتہائی عقیدت و احترام اور روایتی شایانِ شان طریقے سے مکمل کیا گیا۔ مسجد الحرام میں موجود زائرین اور دنیا بھر میں ٹی وی اسکرینز کے سامنے بیٹھے کروڑوں مسلمانوں نے خانہ کعبہ کی اس نئی اور خوبصورت شکل کو دیدہ زیب ملمع کاری کے ساتھ دیکھا جس کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مکہ مکرمہ : نئے اسلامی سال کے آغاز پر غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے روح پرور مناظر

سونے اور چاندی کے تاروں سے کشیدہ کاری:

رپورٹس کے مطابق نئے غلافِ کعبہ کا کل وزن 1410 کلوگرام ہے اور اسے انتہائی مہارت کے ساتھ 47 مختلف حصوں میں تیار کیا گیا ہے۔ اس مقدس غلاف کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر 30 قرآنی آیات کو خالص چاندی کے تاروں اور 24 قیراط سونے کی ملمع کاری کے ساتھ کشیدہ کیا گیا ہے، جو اسے اسلامی فنِ دستکاری اور عقیدت کا ایک منفرد اور بے مثال شاہکار بناتا ہے۔

غلاف کی تیاری کے 7 مراحل:

کسوۂ کعبہ کی تیاری کا عمل انتہائی پیچیدہ اور کٹھن ہوتا ہے جو مجموعی طور پر 7 اہم مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان مراحل میں ریشم کی دھلائی، بُنائی، طباعت، کشیدہ کاری، جوڑائی اور باریک بینی سے معائنہ شامل ہیں۔ ان تمام مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزرنے اور حتمی تیاری کے بعد غلافِ کعبہ کو ایک خصوصی ٹریلر کے ذریعے انتہائی احترام کے ساتھ مسجد الحرام منتقل کیا جاتا ہے۔

7 اقسام کے کپڑے کا خاص استعمال:

نئے غلافِ کعبہ کی ایک اور بڑی انفرادیت اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے 7 مختلف اقسام کے کپڑے ہیں۔ غلاف کا بیرونی حصہ اعلیٰ ترین معیار کے سیاہ ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جبکہ اندرونی استحکام اور مضبوطی کے لیے سفید اور آف وائٹ کپاس (کاٹن) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح، سرخ اور سبز ریشم کو مخصوص حصوں اور دروازۂ کعبہ کے پردے کے لیے مختص کیا جاتا ہے، جبکہ ابھرا ہوا سبز ریشم اندرونی غلاف کی زینت بنتا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی حکومت کا تنخواہوں میں تاخیر پر متبادل طریقہ کار واضح

تاریخ اور جدید کنگ عبدالعزیز کمپلیکس:

سعودی عرب میں غلافِ کعبہ کی باقاعدہ تیاری کا تاریخی سلسلہ 1345 ہجری میں شروع ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ عمل ایک چھوٹی سی روایتی ورکشاپ سے ترقی کرتا ہوا اب ام الجود میں قائم جدید ترین “کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے کسوۂ کعبہ” تک پہنچ چکا ہے۔ اس وقت اس کمپلیکس میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور کاریگروں کی روایتی مہارت کا ایک حسین اور بے مثال امتزاج نظر آتا ہے۔ غلافِ کعبہ نہ صرف دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے روحانی عقیدت کی سب سے بڑی علامت ہے بلکہ یہ اسلامی فن، اعلیٰ ترین دستکاری اور صدیوں پر محیط روایت کا بھی ایک شاندار نمونہ ہے۔