ایک تازہ میڈیکل ریسرچ میں یہ پریشان کن انکشاف ہوا ہے کہ 2017ء سے 2024ء کے دوران، 40 سال سے کم عمر کی خواتین میں ٹائپ 2 شوگر کی بیماری میں 47 فیصد (تقریباً آدھا) اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے مقابلے میں، 40 سے 79 سال کی بڑی عمر کی خواتین میں یہ اضافہ 22 فیصد دیکھا گیا ۔
برطانیہ کے مشہور طبی جریدے ’’ڈائیبٹیز یوکے‘‘ میں چھپنے والی اس رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 7 سالوں میں نوجوان مردوں میں بھی شوگر کی شرح 34 فیصد بڑھی ہے ۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چھوٹی عمر میں شوگر کا ہونا زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ یہ بیماری نوجوانوں کے جسم میں زیادہ تیزی سے نقصان پہنچاتی ہے اور بہت جلد دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) اور فالج جیسے بڑے خطرات کا سبب بن سکتی ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوجوان خواتین میں شوگر بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ دورانِ حمل ہونے والی شوگر ہے۔ جو خواتین حمل کے دوران اس کا شکار ہوتی ہیں، آگے چل کر ان میں مستقل شوگر ہونے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔ لیکن بچے کی پیدائش کے بعد ان خواتین کی دیکھ بھال اور علاج میں شدید کمی دیکھی گئی ہے:
5 سال کے اندر: حمل کی شوگر کا شکار ہونے والی 11 فیصد خواتین میں 5 سال کے اندر شوگر کی ابتدائی علامات پیدا ہو جاتی ہیں ۔
10 سال کے اندر: 15 فیصد خواتین 10 سال کے اندر مستقل طور پر ٹائپ 2 شوگر کی مریض بن جاتی ہیں ۔
ٹیسٹ کی کمی: صرف 57 فیصد خواتین کو سالانہ شوگر ٹیسٹ کروانے کی سہولت ملتی ہے ۔
طبی نظام سے شکایت:
33 فیصد سے زیادہ (ایک تہائی) خواتین نے بتایا کہ بچے کی پیدائش کے بعد ڈاکٹروں یا ہسپتالوں کی طرف سے انہیں بالکل نظر انداز کر دیا گیا اور ان کی صحت کا خیال نہیں رکھا گیا۔
ماہرین کا مشورہ:
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ زچگی کے بعد خواتین کی صحت پر نظر نہ رکھنے، اچھے لائف اسٹائل (طرزِ زندگی) کی کمی اور وقت پر علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے ۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ ہسپتالوں اور علاج کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا، اور خاص طور پر غریب، کم آمدنی والے اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین تک علاج کی بہتر سہولیات پہنچانا اب بے حد ضروری ہو چکا ہے ۔



