وفاقی بجٹ

نئے وفاقی بجٹ میں کون سی گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان؟

 نئے وفاقی بجٹ میں حکومت نے عام اور کم آمدنی والے لوگوں کے استعمال کی چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکسوں کا پرانا نظام برقرار رکھا ہےجبکہ امیروں کی بڑی گاڑیوں اور مہنگی الیکٹرک کاروں پر ٹیکس بڑھا دیا ہے ۔

بجٹ سے پہلے یہ افواہیں تھیں کہ پاکستان میں بننے والی ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کی رعایت ختم کر دی جائے گی لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا ۔ اس کے بجائے باہر کے ملکوں سے منگوائی جانے والی مہنگی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز دی ہے اور گاڑیوں کے باقی فیصلے نئی آٹو پالیسی پر چھوڑ دئیے ہیں ۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ امپورٹ کی جانے والی 2000 سے 3000 سی سی کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے جبکہ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر اسے مزید بڑھایا جا رہا ہے ۔ یہ ٹیکس 2 کروڑ روپے سے مہنگی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر بھی لاگو ہوگا ۔

انہوں نے واضح کیا کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں پر ٹیکس کی رعایت اگلے سال بھی جاری رہے گی اور باہر سے منگوائے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر صرف 1 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں ان رعایتوں کا فائدہ نہ اٹھا سکیں ۔

اس فیصلے کے بعد اب ملک میں صرف وہی پیٹرول یا ڈیزل کی گاڑیاں مہنگی ہوں گی جن کے انجن 2000 سی سی سے بڑے ہیں، جن میں ہر قسم کی بڑی جیپیں اور ایس یو ویز (SUVs) شامل ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:گاڑیاں مزید مہنگی ہونگی،نئی انرجی وہیکل پالیسی کے اہداف سامنے آگئے

ایف بی آر (FBR) حکام کے مطابق، 2000 سی سی تک کی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر پرانی ڈیوٹی 30 فیصد ہی رہے گی لیکن 2000 سے 3000 سی سی انجن والی گاڑیوں پر ڈیوٹی 30 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

اس وجہ سے ٹویوٹا فارچونر، ہائی لکس، پراڈو، لینڈ کروزر، کِیا سورنٹو، ہنڈائی پیلاسائیڈ اور اسوزو ڈی میکس جیسی گاڑیاں کافی مہنگی ہو سکتی ہیں ۔ اسی طرح 3000 سی سی سے بڑے انجن والی گاڑیوں پر ڈیوٹی 40 فیصد سے بڑھا کر 81 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔

حکومت نے یہ بھی صاف کیا ہے کہ 2 کروڑ روپے سے کم قیمت والی الیکٹرک گاڑیاں سستی ہی رہیں گی کیونکہ ان پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہوگی ۔

البتہ  2 سے 3 کروڑ روپے کی لگژری الیکٹرک کاروں پر 30 فیصد ڈیوٹی لگے گی، جس سے اوڈی ای ٹران، زیکر، کِیا ایوی فائیو اور بی ایم ڈبلیو آئی ایکس جیسی مہنگی ترین گاڑیاں مزید مہنگی ہو جائیں گی ۔

یہ بات واضح رہے کہ جو گاڑیاں پہلے ہی ملک میں امپورٹ ہو چکی ہیں ان کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی بلکہ یہ ٹیکس صرف اب باہر سے منگوائی جانے والی گاڑیوں پر لگے گا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:چھوٹی گاڑیاں2 لاکھ روپے مہنگی ، لگژری گاڑیاں 25 لاکھ سے اڑھائی کروڑ تک سستی

گاڑیوں کی نئی آٹو پالیسی کے حوالے سے کئی باتیں اب بھی واضح ہونا باقی ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس وقت نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی بنائی ہوئی کمیٹی کے پاس زیرِ غور ہے، جسے کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔