مظفر آباد( کشمیر ڈیجیٹل) آزادکشمیر اسمبلی کے ممبران کی تنخواہوں میں کئی گنااضافہ کے بعد جہاں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاج کی دھمکی دی ہے وہاں ریاستی دارالحکومت کے شہریوں نے بھی حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آزادکشمیر کے ممبران اسمبلی نے رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اپنی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کر لیا ہے جس پر عوام چکرا کررہ گئے ہیں اور سوچ میں مبتلا ہیں کہ کیا یہی ہمارے نمائندے ہیں۔
غریب کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں،مزدور پورے 30 دن کام کرکے بھی 15 سے 20 ہزار بمشکل کما پاتا ہے دوسری طرف نام نہاد عوامی نمائندے صرف اپنی تنخواہوں میں اضافہ کرکے عیاشی کررہے ہیں۔
کشمیر ڈیجیٹل کے سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہریوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ غریب عوام کے ہی نمائندے ہیں، عام شخص کوتو 15 ہزار سے 20ہزارروپے ماہانہ بھی دستیاب نہیں، وزراء کو 9 لاکھ روپےماہانہ تنخواہ کیساتھ الائونس، پٹرول وغیرہ علیحدہ ہڑپ کرینگے۔
شہریوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ غریب ریاست کے ہی عوامی نمائندے ہیں ،المیہ ہے کہ تنخواہوں میں اضافے پر مفادات کی خاطر اپوزیشن کی بھی یکجا نظر آئی ہے ۔
غریب عوام کو ہسپتالوں میں سہولیات دستیاب ہیں نہ کہیں اور ، اشرافیہ کو اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی ورنہ پہلے بھی طرح پھر سے عوام سڑکوں پر آئیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں آزادکشمیر اسمبلی کی مالیاتی کمیٹی نے آزادکشمیر کے ممبران اسمبلی کی تنخواہوں میں پنجاب اسمبلی کے طرز پر اضافے کی منظوری دی ہے جس کے مطابق وزیروں کی تنخواہ 9 لاکھ اور مشیروں کی 4 لاکھ 50 ہزار کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیس ماہ میں ایسےکام کیے جن کی ریاست کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، چوہدری انوار الحق




