واشنگٹن: امریکا نے ایران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے مزید 9 شخصیات اور اداروں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ حالیہ پابندیاں ایرانی وزارت دفاع، پاسداران انقلاب اور ایرانی افواج کو اسلحہ کی خریداری میں غیر قانونی معاونت فراہم کرنے کے جرم میں عائد کی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کے ہتھیاروں کی فراہمی اور ان کی خرید و فروخت میں معاونت کرنے والے تمام نیٹ ورکس کے خلاف امریکا کی سخت کارروائیاں آئندہ بھی اسی طرح جاری رہیں گی۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ ایرانی عسکری اداروں اور پاسداران انقلاب کو مضبوط بنانے والے مالیاتی و لاجسٹک ذرائع کو مکمل طور پر بلاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے مایوس ہو کر ایران پر دوبارہ حملوں کا حکم دیا ، امریکی ویب سائٹ
ٹرمپ کا ‘ٹروتھ سوشل’ پر اہم بیان:
دوسری جانب، امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اس صورتحال کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور سخت بیان جاری کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوج اس وقت مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکی ہے، اور اس کے بہت سے اہم عسکری حصے، جیسے کہ بحریہ اور فضائیہ، اب عملاً دنیا کے نقشے پر موجود ہی نہیں رہے کیونکہ انہیں مکمل طور پر شکست دی جا چکی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کا آبنائے ہرمز سے تمام جہازوں کی آمد ورفت بند کرنے کا اعلان
مذاکرات میں تاخیر اور بھاری قیمت کا انتباہ:
امریکی صدر کا اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ ایران نے وقت پر درست فیصلہ نہیں کیا اور ایک ایسے تزویراتی معاہدے پر مذاکرات کرنے میں بہت زیادہ دیر کر دی جو خود ان کے اپنے مفاد اور مستقبل کے لیے بہترین ثابت ہو سکتا تھا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں تہران کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب مذاکرات کا بہترین وقت گزر چکا ہے اور ایران کو اس تاخیر کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔




