ثاقب مجید نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیر سیاسی لوگوں کی جانب سے مہاجرین کی نشستوں اور آئینی امور میں مداخلت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ثاقب مجیدنے واضح کیا کہ ریاست کی جانب سے پرامن حل کے لیے تین بار اعلیٰ سطح پر مذاکرات کی کوششوں کے باوجود بلوائیوں نے فورسز پر فائرنگ کی، جس پر انہوں نے امن و امان کے قیام کے لیے جتھوں کے خلاف جرات مندانہ کارروائیوں پر پولیس فورس کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
ریاست کی جانب سے مذاکرات کی مسلسل کوششیں:
ثاقب مجید کا کہنا تھا کہ حکومت اور ریاستِ پاکستان نے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے بہت کوششیں کیں اور اس سلسلے میں بڑی سطح پر تین بار مذاکرات بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاستِ پاکستان کی جانب سے اتنی کوششوں کے باوجود کچھ لوگوں کے عزائم بالکل مختلف تھے، جس کی وجہ سے صورتحال خراب ہوئی۔ ریاست نے ایک طویل وقت تک اس سارے معاملے میں بڑی حد تک برداشت کا مظاہرہ کیا اور پورے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کرنے کی مخلصانہ کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا 4 ممبران کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی گرفتاری میں مدد پر1,1 کروڑ روپے انعام کا اعلان
کالعدم تنظیم کا دوہرا معیار اور غیر سیاسی کردار:
انہوں نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے دوہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم سیاسی نہیں ہیں، لیکن دوسری جانب جتنے بھی ان کے مطالبات ہیں وہ الگ کہانی بیان کرتے ہیں۔ ثاقب مجید نے کڑے انداز میں پوچھا کہ غیر سیاسی لوگوں کا اب کیا کام کہ مہاجرین کی نشستیں 10 ہیں یا 12؛ یہ غیر سیاسی لوگوں کا کام ہی نہیں ہے۔ اگر بات آٹے اور لوگوں کی بنیادی ضروریات کی ہو تو بات سمجھ میں بھی آتی ہے، لیکن جب بات آئین، اسمبلی اور قانون کی ہو تو یہ منطق بالکل سمجھ سے بالاتر ہے۔
پولیس اور عوام کا جانی نقصان اور ذمہ داران:
اپنے بیان میں انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اپنے آپ کو امن کا داعی کہتے ہیں، انہوں نے ہی ریاست کی فورسز پر فائرنگ کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ بلوائیوں کی صورت میں حملہ کریں اور عام آدمی کا جیناحرام کر دیں، ان کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ثاقب مجید نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں پولیس کے 4 جوانوں کی جانیں گئیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان سارے حالات کی مکمل اور تمام تر ذمہ داری اس کالعدم تنظیم پر عائد ہوتی ہے، جبکہ جتھوں کے خلاف کارروائیوں پر پولیس کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔




