حالیہ دنوں میں شدید گرمی کی لہر نے لوگوں کو شدید بے حال کر دیا ہے، جس کے باعث جن علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے وہاں ائیر کنڈیشنر (اے سی) ہی واحد سہارا بن چکا ہے۔ تاہم، بھارتی شہر بنگلورو کے ایک شہری نے شدید گرمی سے بچنے کے لیے بغیر اے سی کے اپنے گھر کو ٹھنڈا رکھنے کا ایک انتہائی قدرتی، ماحول دوست اور انوکھا حل تلاش کر لیا ہے۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کولنگ آلات کے استعمال سے نہ صرف بجلی کے بلوں میں بھاری اضافہ ہوتا ہے بلکہ اے سی میں مختلف اقسام کی خرابیاں اور مہنگی مرمت کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ان تمام مسائل کے پیش نظر، بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ستیہ پرکاش وراناشی نامی شہری نے اپنے گھر کو ایک خاص اور منفرد انداز سے ڈیزائن کیا ہے۔ انہوں نے گھر کی تعمیر اس طرح کی ہے کہ سخت ترین گرمی کے باوجود ان کے گھر کا درجہ حرارت باہر کے موسم کے مقابلے میں 2 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم رہتا ہے۔
ستیہ پرکاش وراناشی نے اپنے اس منفرد گھر کی تعمیر میں روایتی سیمنٹ کی دیواروں کا استعمال کرنے کے بجائے کھوکھلی مٹی کے بلاکس کا استعمال کیا ہے، جو قدرتی انداز میں کمروں کا درجہ حرارت متوازن رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، گھر میں سلائیڈنگ دروازے اور انتہائی حکمت عملی کے تحت بنائی گئی کھڑکیاں نصب کی گئی ہیں جو گرم ہوا کو فوری طور پر باہر نکالنے اور ٹھنڈی ہوا کے گزرنے یعنی کراس وینٹی لیشن کو ممکن بناتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گرمی سے ستائے سیاحوں کا وادیٔ نیلم پر دھاوا؛ مقامی لوگوں نے گھروں کے دروازے بھی کھول دیے
وراناشی ہاؤس کی ایک اور نمایاں اور خاص خصوصیت فرانسیسی طرز کی بڑی کھڑکیوں کا استعمال ہے، جو گھر کے اندر قدرتی روشنی اور مسلسل ہوا کی آمدورفت کو یقینی بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ گھر کے اطراف میں پھولوں اور پودوں پر مشتمل ایک سرسبز و شاداب باغیچہ بھی بنایا گیا ہے، جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ گھر کے حسن اور خوبصورتی میں بھی بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔
ستیہ پرکاش وراناشی کے مطابق، ان کے اس قدرتی طور پر ٹھنڈے رہنے والے گھر کی ڈیزائننگ تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہے، جن میں کراس وینٹی لیشن، ڈسپلیسمنٹ وینٹی لیشن اور جسمانی سطح پر ہوا کی روانی شامل ہیں۔ انہوں نے گھر کے اندرونی ماحول کو معتدل اور خوشگوار رکھنے کے لیے پانی کے استعمال پر بھی خصوصی اور بھرپور توجہ دی ہے۔ اسی وجہ سے گھر میں مچھلیوں کا ایک تالاب اور ایک کھلا کنواں بھی موجود ہے، جو زیرِ زمین پانی کو ری چارج کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پھولوں سے بھرے اس خوبصورت باغیچے کے نیچے 15 ہزار لیٹر بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا نظام بنایا گیا ہے، جسے بعد میں عملی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی مٹیالے اور قدرتی ماحول کا ایک خوبصورت احساس ہوتا ہے، جہاں ری سائیکل شدہ پائن لکڑی، گرینائٹ پتھر کی سیڑھیاں، ریڈ آکسائیڈ فرش اور لکڑی کا فرنیچر مکمل طور پر ایک روایتی دیہی طرز کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ملک میں مرطوب ہوائیں داخل؛ کئی علاقوں میں آندھی اور بارش کی پیشگوئی
اس منفرد گھر میں کسی بھی قسم کی مصنوعی کولنگ کے بجائے قدرتی چمنی کا نظام استعمال کیا گیا ہے جو گرمی کو کم کرتا ہے۔ اس ماحول دوست گھر کی سب سے زیادہ جذباتی اور خوبصورت بات یہ ہے کہ اسے ستیہ پرکاش وراناشی نے خاص طور پر اپنی اہلیہ اشالا اور اپنی بیٹیوں گوری اور سیری کے آرام، سکون اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے محبت سے تعمیر کیا ہے۔




