نہانے

منگلا ڈیم میں نہانے پر پابندی کے باوجود شہریوں کی بے احتیاطی، بڑے حادثے کا خدشہ، انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

میرپور (آصف اقبال خصوصی رپورٹ: کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر کے ضلع میرپور میں واقع منگلا ڈیم کے مختلف مقامات پر انتظامیہ کی جانب سے نہانے پر عائد پابندی کے باوجود بچے، نوجوان اور بزرگ بڑی تعداد میں ڈیم کے گہرے پانی میں نہاتے دکھائی دے رہے ہیں، جس کے باعث کسی بھی وقت بڑے حادثے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔

شہری حلقوں کے مطابق شدید گرمی کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے منگلا ڈیم کا رخ کرتے ہیں، تاہم بیشتر افراد حفاظتی ہدایات اور سرکاری پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خطرناک اور گہرے مقامات پر نہاتے ہیں، جس سے حادثات کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شدید آندھی ، سیاحوں کی رافٹ منگلا ڈیم میں پھنس گئی، ریسکیو ٹیموں نے 115 افراد کو بچالیا

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ منگلا ڈیم میں ماضی میں بھی متعدد افسوسناک واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں کئی افراد ڈوب کر اپنی جانوں سے محروم ہو چکے ہیں، اس کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے گریزاں دکھائی دیتی ہے ۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ منگلا ڈیم کے حساس اور خطرناک مقامات پر نگرانی مزید سخت کی جائے، حفاظتی باڑیں لگائی جائیں، نمایاں وارننگ بورڈز نصب کیے جائیں اور پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیرخزانہ کی زیرصدارت اہم اجلاس، منگلا ڈیم متاثرین کو پلاٹ الاٹمنٹ کا فیصلہ

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں، کیونکہ اگر صورتحال پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی ۔