سابق وزیر حکومت اور آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن ماجد خان نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ کیا جائے کہ ریاست کو بچانا ہے یا سیاست کرنی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہوگا اور موجودہ حالات میں ذمہ دارانہ فیصلوں کی ضرورت ہے ۔
ماجد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض عناصر ریاست کو ایک ایسی بند گلی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں بہت کچھ کھو دیا جائے گا ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ریاستی معاملات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پختون قوم کی بدولت ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں،عبدالماجد خان
انہوں نے مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے سے متعلق باتیں کی جا رہی ہیں، تاہم آج تک اس اہم معاملے پر مہاجرین سے کوئی باضابطہ مشاورت یا گفتگو نہیں کی گئی ۔
ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں کشمیری مہاجرین نے پاکستان اور کشمیر کے لیے قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کے حقوق اور نمائندگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
ماجد خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے کشمیر سے متعلق مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ کشمیر کا مقدمہ کشمیر کی آزادی تک لڑا جائے گا اور اس معاملے پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی ۔
انہوں نے واضح کیا کہ مہاجرین کی نمائندگی یا نشستوں سے متعلق کوئی بھی فیصلہ آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت قانون ساز اسمبلی میں کیا جائے گا اور تمام معاملات اسمبلی کے فورم پر ہی طے ہونے چاہئیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت کی 6ارکان پر مشتمل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی قائم، عبد الماجد خان چیئرمین منتخب
پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نےکہا تھا کہ کشمیر کا مقدمہ کشمیر کی آزادی تک لڑیں گے کشمیر پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے لیکن آج 25لاکھ ان کشمیریوں کی سودی بازی اور خون ریزی کی جا رہی جنہوں نے پاکستان اور ملک کیلئے اپنا گھر بار چھوڑا ۔




