ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ آزاد کشمیر کے مرکزی بازار میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ کے نتیجے میں درجنوں دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں جبکہ تاجروں کو کروڑوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ: تاج محل ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی، 14 کمرے، فیملی ہال مکمل تباہ،1 کروڑ سے زائد نقصان
عینی شاہدین کے مطابق مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ تیزی سے پھیلتی رہی مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ تحصیل بھر میں فائر بریگیڈ کی گاڑی موجود نہ ہونے کے باعث بروقت امدادی کارروائیاں نہ ہو سکیں۔
مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن وسائل کی کمی کے باعث آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل ثابت ہوا۔
ذرائع کے مطابق فائر بریگیڈ کی گاڑی باغ سے دھیرکوٹ روانہ کی گئی تھیں، تاہم دوری اور وقت کی کمی کے باعث آگ مزید شدت اختیار کرتی جا رہی تھی ۔
عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر تحصیل دھیرکوٹ جیسی اہم اور گنجان آبادی میں ایمرجنسی سہولت، خصوصاً فائر بریگیڈ، کا موجود نہ ہونا کس کی غفلت، ناکامی اور لاپرواہی ہے؟
یہ بھی پڑھیں:دھیرکوٹ، شارٹ سرکٹ کے باعث10سے زائد دکانیں خاکستر
شہریوں نے حکومت آزاد کشمیر اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور دھیرکوٹ میں مستقل فائر بریگیڈ اسٹیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی شارٹ سرکٹ کے باعث درجن سے زائد دکانیں خاکستر ہو گئی تھیں۔




