نئی دہلی (کشمیر ڈیجیٹل): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ دورہ بھارت کے اختتام اور ان کی روانگی کے موقع پر سفارتی پروٹوکول کے انتظامات کے حوالے سے سنگین الزامات اور شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ بعض اہم حلقوں کے مطابق اس واقعے نے بھارت کی سفارتی تیاریوں، بین الاقوامی مروجہ روایات اور مہمان نوازی کے مجموعی معیار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس حساس معاملے پر سرکاری سطح سے حاصل ہونے والی تفصیلات فی الوقت کافی محدود ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھارت میں انتہائی اعلیٰ سطحی اور اہم مذاکرات کے لیے موجود رہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مختلف تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان باہمی ملاقاتوں کے دوران بنیادی طور پر علاقائی سلامتی، اسٹریٹجک تعاون کے فروغ اور انڈو پیسفک خطے کے اہم امور سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران معاملہ، امریکی صدر ٹرمپ نے کابینہ کا اہم اور ہنگامی اجلاس طلب کر لیا
امریکی وزیر خارجہ کی روانگی کے وقت سفارتی پروٹوکول سے متعلق مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں کہ کسی بھی اعلیٰ مرکزی وزیر یا سینیئر ترین بیوروکریٹ کی موجودگی کے بغیر ہی انہیں رسمی طور پر رخصت کر دیا گیا، جس پر بعض مبصرین نے اسے مسلمہ سفارتی روایات کے بالکل برعکس قرار دیا ہے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہوائی اڈے پر رخصتی کے وقت انتہائی محدود سطح کا عملہ موجود تھا، تاہم اس کی ابھی تک آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور اس معاملے پر بھارتی و امریکی حکام کی جانب سے کوئی تفصیلی باضابطہ وضاحت بھی سامنے نہیں آئی۔
مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے، آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھا جائے گا، مارکو روبیو
بھارتی میڈیا میں اس وقت اس غیر معمولی واقعے کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس پر مسلسل بحث جاری ہے، جبکہ کچھ ممتاز تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات بین الاقوامی سطح پر سفارتی پروٹوکول اور ریاستی تاثر پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی دوروں میں پروٹوکول کی نوعیت اکثر و بیشتر وقت کے شیڈول، سیکیورٹی اور باہمی انتظامی فیصلوں کے مطابق طے کی جاتی ہے، تاہم مجموعی طور پر اس واقعے نے عالمی سفارتی حلقوں میں ایک بڑی بحث کو جنم دے دیا ہے اور اس پر مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔




