مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)قومی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور آزاد کشمیر کی نمائندگی کرنے والے مارشل آرٹ پلیئر عاصم اعوان نے سپورٹس بورڈ آزاد کشمیر، محکمہ کھیل اور متعلقہ حکام پر الزامات کی بارش کردی۔
عاصم اعوان نے شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریاست میں کھیلوں خصوصاً مارشل آرٹس کو دانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ کروڑوں روپے کے فنڈز کا کوئی شفاف حساب موجود نہیں۔
انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ کھلاڑیوں کے مسائل فوری حل کیے جائیں اور سپورٹس بورڈ کے مالی معاملات کی تحقیقات کرائی جائیں۔
مارشل آرٹ پلیئر عاصم اعوان نے مرکزی ایوانِ صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ وہ گزشتہ تین سال سے مسلسل حکومت، سپورٹس بورڈ اور متعلقہ اداروں تک اپنی آواز پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کھلاڑیوں کے مسائل حل ہو سکیں، مگر ان کی آواز کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی ہیلتھ ایمرجنسی : پاکستانی ایئرپورٹس پر ایبولا وائرس کی اسکریننگ سخت
انہوں نے میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہی واحد پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے کھلاڑیوں کے مسائل حکام بالا تک پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم آزاد کشمیر منصب سنبھالنے کے بعد ان سے ملے تو انہوں نے عزت اور حوصلہ افزائی دی اور یقین دہانی کروائی کہ کھلاڑیوں کے مسائل حلکئے جائیں گے۔
عاصم اعوان کے مطابق انہوں نے متعدد بار وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں اور ہر بار انہیں یہی یقین دہانی کروائی گئی کہ ان کے واجبات اور دیگر مسائل حل ہو جائیں گے، مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کو غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ ان کے مطابق جب وزیراعظم نے اپنے عملے سے پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ عاصم اعوان کے تمام معاملات حل کر دیے گئے ہیں اور ادائیگیاں بھی ہو چکی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج تک ان کے واجبات ادا نہیں کیے گئے۔
عاصم اعوان نے کہا کہ 34ویں نیشنل گیمز کوئٹہ کے دوران ان کا شولڈر ٹوٹ گیا تھا اور علاج سمیت تمام اخراجات انہوں نے اپنی جیب سے برداشت کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے حق میں پانچ لاکھ روپے کی امداد کی منظوری دی گئی تھی، مگر تین سال گزرنے کے باوجود انہیں ادائیگی نہیں کی گئی۔
انہوں نے سپورٹس بورڈ کے بعض افسران خصوصاً قاضی قدیر اور ڈی جی سپورٹس ملک شوکت حیات خان پر بھی شدید تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ قاضی قدیر نے انہیں ٹریک سوٹ پہن کر دفتر آنے پر طنز کا نشانہ بنایا، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ “اگر ہم کھلاڑی یہ ٹریک سوٹ پہننا چھوڑ دیں تو آپ بھی ان کرسیوں پر بیٹھنا چھوڑ دیں گے۔”
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کا بڑا وار، اہم شخصیات پیپلزپارٹی میں شامل
عاصم اعوان نے کہا کہ ایک کھلاڑی اس مقام تک پہنچنے کے لیے خون پسینہ بہاتا ہے، مگر بدقسمتی سے ریاستی اداروں میں بیٹھے افراد کھلاڑیوں کی عزت اور محنت کا احساس نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ مارشل آرٹس کے کھلاڑی مسلسل قومی سطح پر میڈلز جیت رہے ہیں لیکن انہیں نہ مالی معاونت دی جاتی ہے، نہ کیش پرائز اور نہ ہی حکومتی سطح پر کوئی پذیرائی ملتی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سپورٹس بورڈ کو سالانہ دو کروڑ روپے کا بجٹ ملتا ہے تو اس کا حساب کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ فٹبال سمیت بعض کھیلوں پر لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں حالانکہ ان کھیلوں میں قومی سطح پر کوئی نمایاں کامیابی سامنے نہیں آئی،
مارشل آرٹس کے کھلاڑی پاکستان بھر میں میڈلز جیت رہے ہیں مگر انہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں آج تک کشمیر گیمز جیسے بڑے ایونٹس بھی منعقد نہیں کیے گئے، جبکہ دیگر صوبوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے کھلاڑی اپنی مدد آپ کے تحت مقابلوں میں شرکت کرتے ہیں اور اولمپک ایسوسی ایشن یا دیگر ادارے ان کے اخراجات برداشت کرتے ہیں، مگر سپورٹس بورڈ عملی طور پر کوئی کردار ادا نہیں کر رہا۔
عاصم اعوان نے کہا کہ کراچی میں منعقدہ 35ویں نیشنل گیمز میں آزاد کشمیر کے کئی لڑکوں اور لڑکیوں نے میڈلز حاصل کیے، مگر آج تک انہیں کسی قسم کی کیش پرائز یا سرکاری اعزاز نہیں دیا گیا، جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو فوری انعامات اور مراعات دی جاتی ہیں۔
انہوں نے حکومت آزاد کشمیر، وزیراعظم اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سپورٹس بورڈ کے مالی معاملات اور فنڈز کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، کھلاڑیوں کے واجبات فوری ادا کیے جائیں اور مارشل آرٹس سمیت تمام کھیلوں کو مساوی بنیادوں پر فروغ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کھلاڑیوں کے مسائل حل نہ کیے گئے تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ ریاست کے نوجوان کھلاڑیوں کا حق انہیں مل سکے۔



