انقرہ: ترک عدالت نے اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کی قیادت کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا۔
ترکیےکی عدالت نے اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کی قیادت کا انتخاب کالعدم قرار دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر اوزگُراوزل کو عہدے سے ہٹا دیا۔
یہ بھی پڑھیں:ترکیہ کا نیامیزائل ’’یلدرم ہان‘‘ کن خصوصیات کا حامل ہے؟ تفصیلات نے ہلچل مچادی
عدالت نے سابق چیئرمین کمال قلیچ دار اوغلوکو دوبارہ پارٹی قیادت سونپنے کا حکم دے دیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اپوزیشن لیڈر اوزگُراوزل پر انتخاب میں بے ضابطگیوں اور مبینہ ووٹ خریدنے کے الزامات تھے۔
ترکیے کے اپوزیشن لیڈراوزگُراوزل نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی نے سپریم کورٹ آف اپیلز سے رجوع کر لیا ہے ، اعلیٰ عدالت سے فیصلے کے کالعدم ہونے کی توقع ہے۔
ترک اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ نہ پارٹی اور نہ ہی ملک اس بغاوت کے آگے جھکیں گے۔برطانوی میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے عدالتی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر مشترکہ فریم ورک کی تشکیل پر متفق
یہ فیصلہ صدر رجب طیب اردوان کے سیاسی مخالفین کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہےکیونکہ اوزگور اوزیل کی قیادت میں حزب اختلاف نے حالیہ عرصے میں حکومت کے خلاف زیادہ جارحانہ سیاسی مہم چلائی تھی۔




