نیلم جہلم پروجیکٹ، قومی خزانےکو 42 ارب 93 کروڑ روپے کا نقصان

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پیش کی گئی آڈٹ رپورٹ میں قومی خزانے کو 42 ارب 93 کروڑ روپے سے زائد نقصان پہنچنےکا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ حکام کے مطابق نیسپاک نے نیلم جہلم منصوبے میں تکنیکی خامیاں اور ناقص نگرانی کی، نیلم جہلم پاور پلانٹ سرنگ گرنےکے باعث جولائی 2022 میں بند ہوا جس کے بعد نیلم جہلم ٹنل میں مئی 2024 میں دوبارہ حادثہ پیش آیا۔

یہ بھی پڑھیں:انجینئر کریم نواز نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کے سی ای او مقرر،نوٹیفکیشن جاری

حکام کے مطابق بار بار تکنیکی خرابیوں کے نتیجے میں منصوبے سے بجلی کی پیداوار مکمل طور پر رک گئی۔ اس خلل کی وجہ سے ایک طویل مدت تک بجلی کی عدم پیداوار کی وجہ سے اہم مالی نقصان ہوا۔

حکام نے بتایاکہ منصوبے کی بندش سے بجلی پیداوار میں اربوں روپے کا نقصان ہوا، بحالی اور بجلی کی پیداوار بند ہونے سے مجموعی نقصان 42 ارب 93 کروڑ 40 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔

سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے معاملے کی انکوائری شروع کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد علی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی اس وقت منصوبے کی تکنیکی اور انتظامی ناکامیوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیلم جہلم پروجیکٹ کی بحالی کا کام شروع کرنے کی ہدایت،2سال تک بحالی کا امکان

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر نے سوال کیا کہ نیسپاک کے ہر معاملے کی انکوائری چل ہی رہی ہوتی ہے مکمل کیوں نہیں ہوتی؟

دوسری جانب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے انکوائری رپورٹ آنے تک معاملہ موخر کردیا۔