اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) وفاقی وزیر عطا تارڑ نے ایکس پروزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صحافیوں کو قانونی کارروائی کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ جب کارکردگی کا دفاع ممکن نہ رہے تو میڈیا پر حملے شروع ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کیوں بڑھ رہی ہے، ترقیاتی منصوبے کیوں رکے ہوئے ہیں، سرمایہ کاری کیوں نہیں آ رہی اور نوجوان روزگار کے لیے کیوں پریشان ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن: مزید تین سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ، رجسٹریشن تاریخ میں توسیع
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کابینہ اجلاس کی آڈیو منظر عام پر آئی جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے سرکاری افسران کو حکومت پر تنقید کرنیوالے میڈیا ہاوسز کیخلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔
سہیل آفریدی نے تمام صوبائی سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ کرپشن سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے میڈیا ہاوسز کو تین دن کے اندر لیگل نوٹسز بھیجے جائیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون مارکیٹ میں آنے سے قبل توجہ کا مرکز بن گیا
آڈیو میں سہیل آفریدی نے مزید کہا ہے کہ جو سرکاری افسر میڈیا ہاؤسز کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کرے گا، اس کے خلاف چوتھے روز کارروائی کی جائے گی۔
جب کارکردگی کا دفاع ممکن نہ رہے تو میڈیا پر حملے شروع ہو جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کیوں بڑھ رہی ہے، ترقیاتی منصوبے کیوں رکے ہوئے ہیں، سرمایہ کاری کیوں نہیں آ رہی اور نوجوان روزگار کے لیے کیوں پریشان ہیں۔
ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے… https://t.co/zwzD64cl7r
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) May 21, 2026
خیبر پختونخوا میں آزاد صحافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جارہی ہے اور سہیل آفریدی نے سرکاری افسران کو تین دن میں میڈیا ہاؤسز کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت دی ہے۔




