شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز نے ایک انتہائی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران انتہائی مطلوب خارجی کمانڈر عمر عرف جان میر کو اس کے 4 ساتھی دہشت گردوں سمیت جہنم واصل کر دیا ہے۔ ہلاک ہونے والے فتنہ الخوارج کے سرغنہ کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج کے خلاف یہ بڑی کارروائی شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں کی گئی۔ فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی اس آپریشن میں انتہائی مربوط اور فول پروف حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو گھیرے میں لیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دہشت گرد سرغنہ خارجی عمر عرف جان میر عرف تور ثاقب اپنے 4 دیگر دہشت گرد ساتھیوں سمیت عبرت ناک انجام کو پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ گیریژن کا دورہ، سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے فتنہ الخوارج کے اس سرغنہ نے سپین وام میں بوبالی مسجد کے اطراف کے علاقے میں زیرِ زمین خفیہ بنکر، خطرناک سرنگیں اور بارودی مواد کا جال بچھا رکھا تھا۔ یہ خارجی کمانڈر سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر کیے جانے والے متعدد دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ اور مرکزی منصوبہ ساز تھا، جس کا خاتمہ فورسز کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔
دفاعی ماہرین کا اس اہم کامیابی پر کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کے اس اہم اور ہائی پروفائل دہشت گرد سرغنہ کی ہلاکت سے پورے علاقے میں امن و امان کی صورتحال مزید بحال ہو گی۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں اس خوارجی سرغنہ کی ہلاکت فتنہ الخوارج کے نیٹ ورک کے لیے ایک انتہائی شدید اور کاری ضرب ثابت ہوئی ہے جس سے ان کا ڈھانچہ بکھر جائے گا۔
مزید پڑھیں: بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن: فتنہ الخوارج کے 2 انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک
ماہرین کے مطابق ملک بھر میں آپریشن عزم استحکام کے تحت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت اور کامیابی سے جاری ہیں۔ فورسز وطنِ عزیز سے دہشت گردی کے آخری سائے کے خاتمے تک اس عزم پر قائم ہیں، اور حالیہ آپریشن نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ایک بار پھر خاک میں ملا دیا ہے۔




