ملک کے بیشتر علاقوں میں محکمہ موسمیات نے بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی کر دی

ملک بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر سے پریشان شہریوں کے لیے محکمہ موسمیات نے راحت کی بڑی خوشخبری سنا دی ہے۔ ملک کے متعدد بالائی اور وسطی علاقوں میں تیز ہواؤں، آندھی، گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی ہے جس سے گرمی کی شدت میں کمی متوقع ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں بادل برسنے کا قوی امکان ہے، جس سے موسم خوشگوار ہو جائے گا۔ اگرچہ ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت برقرار رہے گی، تاہم کئی بالائی اور وسطی شہروں میں آندھی، گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے جو گرمی کے ستائے عوام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گرمی کے ستائے شہریوں کیلئے خوشخبری، محکمہ موسمیات کی بارش کی پیشگوئی

حکام کا بتانا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی اور سیاحتی مقام مری میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کے اضلاع دیر، سوات، مالم جبہ، کوہستان اور باجوڑ میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے کالام، چترال، بونیر، کوہاٹ، ایبٹ آباد اور پشاور میں آندھی اور بارش کا امکان ظاہر کیا ہے جبکہ صوابی، مردان، مالاکنڈ، پارا چنار، کرم اور بنوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

چیف میٹرولوجسٹ کے مطابق ڈی آئی خان، لکی مروت، کرک اور وزیرستان کے اضلاع میں بھی آندھی اور بارش متوقع ہے۔ پشاور شہر میں آج مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہے گا، تاہم دن کے وقت موسم گرم رہنے کی توقع ہے جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے اور ہوا میں نمی کا تناسب 29 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بیشتر شہری علاقوں میں تپش برقرار رہنے کے باوجود بالائی حصوں میں بادلوں کی آمد سے ہوا ٹھنڈی ہونے کی امید ہے۔

مزید پڑھیں: ملک گیر طوفانی بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی: محکمہ موسمیات کا ہائی الرٹ

محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ شب بھی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی جس سے وہاں موسم سرد ہو گیا۔ سب سے زیادہ 20 ملی میٹر بارش اپر دیر میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ میرکھانی میں 17 ملی میٹر، کالام میں 16 ملی میٹر، دروش میں 13 ملی میٹر، چترال میں 12 ملی میٹر اور پٹن کے مقام پر 8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ان علاقوں میں گرمی کا زور مکمل طور پر ٹوٹ گیا ہے۔