اوسلو: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ناروے کے موقع پر تحریکِ کشمیر ناروے کے زیرِ اہتمام ناروے کی پارلیمنٹ کے باہر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بھارتی حکومت کے خلاف پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے جاری مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام پر ہونے والے ظلم و جبر کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری، یورپی ممالک اور ناروے کی پارلیمنٹ سے موثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:اوسلو میں پریس بریفنگ: خاتون صحافی نے آزادیِ صحافت پر نریندر مودی کو آئینہ دکھا دیا
مظاہرے سے اوسلو سٹی کونسل کے سابق رکن چوہدری خالد محمود ، ڈاکٹر مبشر بنارس ، چوہدری وسیم شہزاد معروف ، راجہ عبدالمجید ، راجہ مقبول حسین اینم سوفی، سید نعمت علی شاہ بخاری ، چوہدری حاجی ناصر محمود، شاہد اصغر، عمران بشیر خان ، شاہد تنویر بٹ ، حاجی خالد نزیر بٹ ، طلعت محمود بٹ اور دیگر سیاسی، سماجی و مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا۔
اس موقع پر اسلامک کلچرل سنٹر اوسلو، سینٹرل جماعت اہلسنت، دعوت و تبلیغ ناروے، ادارہ منہاج القرآن، انجمن حسینیہ فيورست، ورلڈ اسلامک مشن اوسلو، فیضانِ مدینہ، اسلام نیٹ ایمان سینٹر، مرکز المسلمین ہاگن ستواہ اسلامک سینٹر ستونر سمیت متعدد فلاحی و مذہبی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں:آپریشن سندور کی ناکامی کا ایک سال مکمل: مودی سرکار کا اپنی ہی فوج پر کڑا وار، آرمی اور نیول چیف برطرف
مقررین نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے ہوئے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔
پروگرام کے اختتام پر ممتاز عالم دین مولانا حافظ محبوب الرحمان نے کشمیر، غزہ، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور تمام شرکاء و منتظمین کے لیے خصوصی دعا کروائی۔




