آپریشن سندور کی ناکامی کا ایک سال مکمل: مودی سرکار کا اپنی ہی فوج پر کڑا وار، آرمی اور نیول چیف برطرف

بھارت میں ‘آپریشن سندور’ کی بدترین ناکامی کو ایک سال مکمل ہونے پر مودی حکومت نے اپنی عسکری قیادت کے خلاف بڑا ایکشن لیتے ہوئے آرمی اور نیوی چیف کو عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار رضوان رضی کے مطابق بھارت نے 10 مئی کی سالگرہ اپنے آرمی چیف اور نیوی چیف کو نوکری سے نکال کر منائی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام ایک خاموش پیغام رسانی کے تحت کیا گیا ہے جسے بھارتی مسلح افواج میں بڑھتی ہوئی ’زعفرانائزیشن‘ یعنی ہندوتوا اثر و رسوخ اور آپریشنل نااہلی کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اچانک برطرفی نے بھارتی دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور حکومت کے اس فیصلے کو فوج کے اندرونی معاملات میں سیاسی مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام ایک خاموش پیغام رسانی کے تحت کیا گیا ہے جسے بھارتی مسلح افواج میں بڑھتی ہوئی ’زعفرانائزیشن‘ یعنی ہندوتوا اثر و رسوخ اور آپریشنل نااہلی کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اچانک برطرفی نے بھارتی دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور حکومت کے اس فیصلے کو فوج کے اندرونی معاملات میں سیاسی مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ہندوتوا سوچ اور میرٹ کی قربانی:

رپورٹس کے مطابق بھارتی مسلح افواج کے سینیئر رینک میں اس وقت شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ میرٹ کو نظر انداز کر کے مخصوص نظریات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سبرا مانی، جن کی واحد شہرت ان کی انتہا پسند ہندوتوا سوچ اور مودی و راجناتھ سنگھ سے قربت ہے، انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فور اسٹار دے کر نوازا گیا۔ اسی طرح موجودہ آرمی چیف جنرل دویدی بھی اپنی پیشہ ورانہ قابلیت کے بجائے مذہبی اسناد کی بنیاد پر پسندیدہ قرار دیے گئے تھے تاہم آپریشن سندور کی تلخ شکست نے ان کے کیریئر کا خاتمہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ مودی سے ناراض،چین کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان بھارت سے جنگ ہارے، بھارتی تجزیہ کار پراوین ساہنی

عسکری قیادت میں بڑی تبدیلیاں اور اکھاڑ پچھاڑ:

بھارتی مودی سرکار نے فوج میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ بچھاڑ کرتے ہوئے سابق وائس چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل این ایس راجا سبرامنی (ریٹائرڈ) کو نیا چیف آف ڈیفنس اسٹاف جبکہ وائس ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن کو نیا نیول چیف مقرر کر دیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی جنرل انیل چوہان کی جگہ سنبھالیں گے جبکہ وائس ایڈمرل سوامی ناتھن ایڈمرل دنیش کمار تریپاٹھی کی جگہ بھارتی بحریہ کی کمان سنبھالیں گے۔ یہ تقرریاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان کے خلاف لانچ کیے گئے ’آپریشن سندور‘ کی ناکامی کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے اور اس ناکامی پر بھارتی عسکری قیادت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

سی ڈی ایس اور آرمی چیف کی نااہلی:

بھارت کے باخبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ آپریشن سندور کی ذلت آمیز ناکامی کی بڑی وجہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان اور آرمی چیف جنرل دویدی کی نااہلی اور حد سے زیادہ سیاسی وابستگی تھی۔ میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے افسران کو ترقی دی گئی جنہیں پہلے 4 اسٹار کے لیے موزوں بھی نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر ان کی مذہبی و سیاسی وفاداری کام آگئی۔ اس وقت پوری بھارتی فوج میں یہ تاثر عام ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے سیاسی وابستگی ہی ترقی کا واحد راستہ بن چکی ہے جس کا خمیازہ آپریشنل ناکامیوں کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

نئے عسکری سربراہان کا پروفائل:

لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی دسمبر 1985 میں 8 گڑھوال رائفلز میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد بھارتی فوج میں شامل ہوئے تھے اور انہوں نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول سمیت کئی اہم محاذوں پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ دوسری جانب وائس ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن مواصلاتی اور الیکٹرانک وارفیئر کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے طیارہ بردار جہاز ’آئی این ایس‘ وکرمادتیہ کی کمان بھی کی ہے۔ یہ دونوں تقرریاں حالیہ برسوں میں بھارتی عسکری قیادت میں ہونے والی اہم ترین تبدیلیوں میں شمار کی جا رہی ہیں جن کے بارے میں مودی حکومت نے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

Scroll to Top