عمران خان کی کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاور میں 16کروڑ کی 2 جائیدادیں سامنے آگئیں، زاہد گشکوری

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سینئر صحافی زاہد گشکوری نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی اسلام آباد کے متنازعہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو ٹاورز میں سولہ کروڑ روپے مالیت کی 2 جائیدادیں سامنے آگئیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے وزارت عظمیٰ کے دور کے سال 2021ایک لگژری فلیٹ اور پھر دو ہزار بائیس میں ایک کمرشل دکان اپنے اثاثوں میں ظاہر کی۔

زاہد گشکوری کے مطابق بانی تحریک انصاف عمران خان نے ون کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کمرشل دکان کی قیمت ساڑھے بارہ کروڑ اٹھاون لاکھ روپے ظاہر کیگئی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران، امریکہ مذاکرات حج کے بعد اسلام آبادمیں متوقع، العربیہ کا دعویٰ

سینئر صحافی کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے 2021 میں اپنےفلیٹ کی قیمت ایک کروڑ 19 لاکھ روپے ظاہر کی تھی،بانی پی ٹی آئی کے اسلام آباد کے فلیٹ کی مالیت ایک سال بعد تین کروڑ سے زائد ڈیکلیئر کی گئی ۔

زاہد گشکوری کے مطابق بانی تحریک انصاف کے اثاثے اور انکی مالیت 2021سے 2022 کے دوران ایک سو بیس فیصد بڑھے۔ 2021میں بانی پی ٹی آئی کے اثاثوں کی مالیت 14 کروڑ 10 لاکھ روپے تھی، دستاویزات میں انکشاف

عمران خان نے 2021-22 میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو ٹاور میں ایک میگا کمرشل شاپنگ کوریڈور اور لگژری اپارٹمنٹ حاصل کیا جس کی مالیت 160 ملین روپے (موجودہ مارکیٹ ویلیو 800 ملین روپے کے ساتھ) ہے

مزید یہ بھی پڑھیں:ڈپٹی کمشنر چوہدری ساجد حسین کا محکمہ برقیات کو بجلی بحالی یقینی بنانے کی ہدایت

2022 میں بانی تحریک انصاف کے اثاثوں کی مالیت بتیس کروڑ آٹھ لاکھ ہوگئی،دوسری جانب جنرل سیکرٹری تحریک انصاف سلیمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ کانسٹی ٹیوشن ایونیو ون میں خریدے گئے دونوں اثاثے ٹیکس حکام کے ساتھ ڈیکلیرڈ ہیں۔

وہ اس وقت پاکستان کے وزیراعظم تھےجب انہوں نے ان نئے اثاثوں کا اعلان 2024 کے انتخابات کے کاغذات نامزدگی میںبھی اس کا ذکر کیا۔

سلیمان اکرم راجہ نے کہا کہ جب بانی تحریک انصاف کے دونوں اثاثے ظاہر کئے گئے ہیں تو اس میں غیر قانونی کیا ہے۔