میرپور میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کی معاونت، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا بڑا ایکشن

مظفر آباد: غیر قانونی سگریٹ یونٹس کے دوبارہ فعال ہونے کی خبروں کے حوالے سے آزاد کشمیر کی سیاسی اور انتظامی فضا میں اہم پیش رس پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے مختلف میڈیا رپورٹس پر میرپور میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کو مبینہ سہولت فراہم کیے جانے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کارروائی کے تحت میرپور سرکل میں ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو کے عہدے پر چوہدری اظہر کی متنازعہ تعیناتی کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ چوہدری اظہر اسسٹنٹ کمشنر سے ڈپٹی کمشنر ترقی پانے کے بعد اہم سیاسی شخصیات کی مدد سے مذکورہ پوسٹنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد صورتحال نے بالکل نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میرپور میں قائم بعض غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کی دوبارہ فعالی کے حوالے سے بھی اہم ترین حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی، اور یہ الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ چوہدری اظہر مبینہ طور پر ان عناصر کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے تھے جو غیر قانونی سگریٹ کاروبار کو دوبارہ فعال بنانے کے خواہاں تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی آمد،فیصل ممتاز راٹھور کا جیب سے فنڈز دینے کا اعلان

بااثر نیٹ ورک اور وزیر خزانہ کا مبینہ نام:

مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر اس حوالے سے خبر نشر ہونے کے بعد یہ معاملہ مظفر آباد میں اعلیٰ سطح تک پہنچا، جس کے بعد وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تمام تفصیلات لے کر اس متنازعہ تعیناتی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ذرائع کے مطابق مظفر آباد میں وزیر اعظم کی جانب سے خود اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور میرپور سرکل میں کسی بھی متنازعہ تعیناتی سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اہم حلقے اس بات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں کہ غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کی موجودہ سرگرمیوں کے پیچھے کون سا منظم نیٹ ورک اور بااثر عناصر متحرک ہیں۔ اس معاملے میں مختلف اداروں کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں جبکہ مستقبل میں مزید سخت انتظامی اقدامات کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس پورے معاملے میں ایک تشویشناک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ماضی کی طرح غیر قانونی سگریٹ یونٹس کے دوبارہ فعال ہونے میں مبینہ طور پر وزیر خزانہ و ان لینڈ ریونیو قاسم مجید کا بھی نام سامنے آ رہا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کے دور میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف ایک تاریخ ساز آپریشن کیا گیا تھا، جس کو آزاد کشمیر سمیت پورے پاکستان میں وسیع پیمانے پر سراہا گیا تھا۔ موجودہ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی حکومت بنانے کے بعد ان غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو جاری رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا تھا اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کا کمپرومائز نہ کرنے کے واضح احکامات جاری کیے تھے۔

الیکشن کے قریب آتے ہی مافیا کی دوبارہ فعالی:

لیکن اب دیکھا جا رہا ہے کہ الیکشن کے نزدیک آتے ہی میرپور اور بھمبر میں غیر قانونی سگریٹ یونٹس کے دوبارہ فعال ہونے کی خبریں پے در پے سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ کچھ ہفتے پہلے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کی جانب سے نوٹس لینے اور شدید برہمی کے اظہار کے بعد کچھ ہی گھنٹوں میں بھمبر میں چوہدری اظہر کی جانب سے ایک سگریٹ یونٹ کے خلاف کاروائی کی گئی تھی جو کہ بھینسوں کے باڑے کی آڑ میں غیر قانونی طور پر کام کر رہا تھا۔ تاہم، اب مبینہ طور پر اس سگریٹ یونٹ کے بھی دوبارہ فعال ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: مہاجرین نشستوں کا معاملہ یکسو ہونے تک الیکشن شیڈول کا اعلان مشکل ہے، فیصل راٹھور

ذرائع کے مطابق حالیہ سخت فیصلے نے سیاسی حلقوں اور آزاد کشمیر میں قائم غیر قانونی سگریٹ تیاری میں ملوث عناصر کو ایک کھلا اور کلیئر پیغام دیا ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کی حدود میں غیر قانونی سگریٹ کی تیاری کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کروائیں گے اور چند مخصوص عناصر کے ذاتی مالی مفاد کی خاطر کسی بھی ٹیکس چور کو کوئی رعایت نہیں ملے گی۔