اعظم تارڑ

موجودہ حالات میں 28ویں آئینی ترمیم کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے : اعظم تارڑ

وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں 28ویں آئینی ترمیم کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے اور اس حوالے سے کوئی بھی پیشرفت مکمل سیاسی مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد ہی ممکن ہوگی ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سب سے پہلے اپنی اتحادی جماعتوں سے رابطہ اور مشاورت کرے گی ۔

اگر اتحادیوں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا تو پھر آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وفاق میں مخلوط حکومت قائم ہے، اس لیے کسی بھی آئینی ترمیم کو یکطرفہ طور پر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا ۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اہم قومی معاملات پر تمام سیاسی اور متعلقہ حلقوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔ انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2009ء میں بھی مختلف جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہونے کے بعد آئینی پیش رفت ممکن ہوئی تھی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عوام افواہوں پر دھیان نہ دیں،وزیراعظم نے قابل عمل حکمت عملی تیار کرلی، عطاتارڑ

وزیر قانون کے مطابق اگر ملک میں وسیع قومی مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو اس کے ذریعے بھی مختلف معاملات پر ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ بعض امور پر بات چیت پہلے ہی جاری ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی چلتا رہے گا ۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک کسی ترمیم کا باضابطہ مسودہ تیار نہیں ہوتا، اس کی اصل نوعیت اور خدوخال واضح نہیں ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی نظام کو چلانے کے دوران کئی انتظامی اور آئینی مسائل سامنے آتے ہیں جن پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے ۔

اس موقع پر انہوں نے نیشنل فنانس کمیشن کے فارمولے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں اضافے کو اس میں بنیادی اہمیت دی گئی ہے جبکہ سرائیکی صوبے سمیت مختلف علاقوں سے نئے صوبوں یا علاقائی حقوق کے مطالبات بھی سامنے آتے رہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم مسلسل بلدیاتی اداروں کو مزید مضبوط اور بااختیار بنانے کی بات کر رہی ہے ۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ذمہ داری انہیں سونپی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جلد آئےگا، اعظم نذیر تارڑ

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان مشاورت سے معاملات میں پیش رفت کا امکان موجود ہے کیونکہ دونوں اہم حکومتی اتحادی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔