معیشت دانوں

ناقدین کی منافقت کا جھوٹ فاش: خود ساختہ معیشت دانوں کی جانب سے پاکستان کے توانائی بحران کے اصل حقائق مسخ کرنے کی منظم سازش

عملی بددیانتی کا واضح مظاہرہ کرتے ہوئے، چند خود ساختہ معیشت دانوں اور حکومتی نقادوں نے حال ہی میں پاکستان کے معاشی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے ایک انتہائی جانبدارانہ اور گمراہ کن مہم کا آغاز کیا ہے ۔ ان نام نہاد ماہرین نے اپنے مسخ شدہ تجزیوں اور بدنیتی پر مبنی دعووں کے ذریعے یہ جھوٹا بیانیہ گھڑا ہے کہ پاکستان میں حال ہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا جانے والا اضافہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات سے کہیں زیادہ ہے ۔

یہ عناصر مسلسل یہ جھوٹ پھیلا رہے ہیں کہ حکومت عالمی منڈی میں خام تیل (Crude Oil) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل بتا کر کے قیمتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی اصل قیمت اس سے بھی اوپر یعنی 109 ڈالر فی بیرل پر گردش کر رہی ہے ۔

تاہم، اس منظم حملے کا سب سے بھیانک پہلو صرف خام تیل کی قیمتوں کو مسخ کرنا نہیں ہے؛ بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کے توانائی کے درآمدی بل کے اصل اور حقیقی ڈھانچے کو جان بوجھ کر، سوچی سمجھی سازش کے تحت عوام سے چھپانا ہے ۔

ادھورے سچ کا گورکھ دھندا: خام تیل بمقابلہ ریفائنڈ پیٹرولیم

ان متعصب معیشت دانوں کی منافقت کا بنیادی مرکز وہ بنیادی حقیقت ہے جسے انہوں نے کمالِ عیاری سے پسِ پشت ڈال دیا: پاکستان صرف خام تیل ہی درآمد نہیں کرتا ۔

ملک کی توانائی کی وسیع تر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو تیار شدہ اور قابلِ استعمال ایندھن درآمد کرنا پڑتا ہے ۔ ان ناقدین نے عوام کو جان بوجھ کر گمراہ کرنے کے لیے تلخ حقائق پر مکمل طور پر پردہ ڈال دیا :

ریفائنڈ مصنوعات پر انحصار:
پاکستان اپنی ضرورت کا ایک بڑا حصہ، یعنی 54 فیصد ڈیزل اور پیٹرول مکمل طور پر ریفائن شدہ (تیار) حالت میں درآمد کرتا ہے، کیونکہ ملک کے اندر ریفائنریوں کی گنجائش قومی طلب کا ساتھ دینے سے قاصر ہے۔

قیمتوں کا ہولناک فرق:
جہاں خام تیل 109 ڈالر فی بیرل پر موجود ہے، وہاں عالمی مارکیٹ میں ریفائنڈ (تیار شدہ) مصنوعات کی قیمتیں اس سے کہیں زیادہ بلند ہیں۔ آج عالمی مارکیٹ میں ریفائنڈ پیٹرول (Gasoline 92 RON) کی قیمت 129 ڈالر فی بیرل ہے، جبکہ ریفائنڈ ڈیزل (Gasoline 10 PPM) 157 ڈالر فی بیرل کی ظالمانہ حد کو چھو رہا ہے۔

پاکستان کے معاشی بوجھ کا تخمینہ صرف خام تیل کی قیمت پر لگانا ان بدنیتی پر مبنی ناقدین کی پیشہ ورانہ بددیانتی اور فریب کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انتہائی مہنگے داموں خریدا جانے والا یہ ریفائنڈ ایندھن ہی پاکستان کی داخلی معیشت پر قیمتوں کا اصل دباؤ بڑھاتا ہے ایک ایسی حقیقت جس سے ان مقامی مبصرین نے آنکھیں موند لیں تاکہ وہ اپنے من پسند “معاشی تباہی” کے ساختہ بیانیے کو سچ ثابت کر سکیں۔

عام آدمی کی ڈھال: ٹارگٹڈ سبسڈیز کی حقیقی صورتحال

اس جعلی معلومات پر مہم کو جو چیز مزید گھناؤنا بناتی ہے، وہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے امدادی اقدامات کو یکسر نظراندٹ کر جانا ہے۔ ریفائنڈ ایندھن کی ان کمر توڑ بین الاقوامی قیمتوں کے باوجود، ریاست نے اپنے شہریوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔

حقیقت یہ ہے کہ:
حکومتِ وقت اس درآمد شدہ ریفائنڈ پیٹرول اور ڈیزل پر بھاری مالی بوجھ خود برداشت کر رہی ہے اور کسانوں، پبلک ٹرانسپورٹرز اور عام آدمی جیسے معاشرے کے سب سے کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مسلسل ٹارگٹڈ سبسڈی (مخصوص رعایت) مہیا کر رہی ہے۔

بددیانتی کا حتمی فیصلہ

عالمی مارکیٹ میں ریفائنڈ ڈیزل کی 157 ڈالر فی بیرل کی حقیقت کو یکسر غائب کر کے، صرف خام تیل کے چارٹس دکھا کر پاکستان میں ایندھن کی مقامی قیمتوں کا موازنہ کرنا کوئی علمی چوک یا غلطی نہیں ہے بلکہ یہ خالص منافقت اور پیشہ ورانہ خیانت ہے۔ یہ کوئی معاشی تجزیہ نہیں، بلکہ من گھڑت مفروضوں پر عوامی غم و غصے کو بھڑکانے کی ایک سوچی سمجھی “انفارمیشن وار” ہے۔ یہ مکار مقامی معیشت دان عالمی توانائی مارکیٹ کے ناقابلِ تردید اور ٹھوس اعداد و شمار کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔