تحریر: ظہیرایوب راٹھور
تھکے ہارے موسموں، پژمردہ فضاؤں اور زخم خوردہ امیدوں کے درمیان اگر کوئی ایک ایسی شخصیت ابھر آئے جو صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے یقین دلائے۔
جو صرف نعرہ نہ دے بلکہ تاریخ کے سینے پر نقوش ثبت کرے اور جو صرف حکمران نہ ہو بلکہ اجتماعی دل کی دھڑکن بن جائےتو پھر وہ فرد ایک منصب نہیں بلکہ ایک عہد بن جاتا ہے۔۔۔
آزاد جموں و کشمیر کی معاصر سیاست میں راجہ فیصل ممتاز راٹھور اسی عہد ساز کیفیت کا نام ہیں۔ یہ کہنا کہ وہ وزیراعظم ہیں محض ایک سرکاری تعارف ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری، وسیع اور ہمہ گیر ہے۔

وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر گزشتہ ساٹھ ستر دھائیوں میں بھی کئی نام آئے، کئی دستخط ہوئے، کئی تصویریں سرکاری دیواروں کی زینت بنیں مگر سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ عوام کے دلوں میں گھر بنا سکے۔۔۔۔؟
کتنے ایسے تھے جن کے ذکر سے دور دراز وادیوں میں بسے محروم لوگوں کی آنکھوں میں روشنی جاگی۔۔۔؟ کتنے ایسے تھے جن کے آنے سے پسماندہ علاقوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید اب ریاستی شفقت کا دروازہ ان کیلئے بھی کھلنے والا ہے۔۔۔؟ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں راجہ فیصل ممتاز راٹھور دوسروں سے ممتاز ہو جاتے ہیں۔
ان کی شخصیت کا پہلا اور سب سے دلنشیں تعارف ان کا انکسار ہے۔ اقتدار اکثر انسان کے لہجے میں غرور، نگاہ میں فاصلے اور روئیے میں اجنبیت پیدا کر دیتا ہےمگر یہ شخص جتنا اوپر گیا اتنا ہی جھک کر ملا۔ منکسرالمزاجی ان کے مزاج میں محض ایک سیاسی ادا نہیں بلکہ ایک فطری وصف ہے۔
ان کے قریب آنے والا ہر شخص اپنے ساتھ ایک عجیب سی اپنائیت، احترام اور اعتماد کا احساس لے کر لوٹتا ہے۔لیکن یہ انکسار کمزوری نہیں بلکہ اس کے اندر فولاد جیسا صبر پوشیدہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور عہدِنو کا کرشماتی معمار،حویلی کی شان
سیاسی طنز، مخالفانہ مہمات، کردار کشی کی کوششیں، بے بنیاد تنقیدیں اور ذاتی حملے۔ یہ سب کچھ ان کے راستے میں بچھایا گیا مگر ان کے لہجے کی شائستگی مجروح نہ ہوئی۔ انہوں نے شور کا جواب شور سے نہیں دیا، بہتان کا جواب بدزبانی سے نہیں دیا بلکہ دلیل، برداشت، خاموشی اور کارکردگی سے دیا۔
یہی وہ ظرف ہے جو بڑے انسانوں کو عام سیاست دانوں سے الگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے جانی دشمن پر بھی پلٹ کر وار نہیں کرتے۔ البتہ اپنی ترقی، اپنی کامیابی اور اپنی مسلسل پیش قدمی سے اسے خود اپنے حسد کی آگ میں جلا دیتے ہیں۔
اور پھر ان کے وجود میں ایک ایسی تڑپ ہے جو انہیں سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔کچھ لوگ اقتدار سنبھالتے ہی آرام دہ کرسی تلاش کرتے ہیں جبکہ فیصل راٹھور نے اقتدار سنبھالتے ہی کام کی زمین تلاش کی۔
ان کیلئے منصب آسائش نہیں مشن ہے۔ان کے لیے حکومت پروٹوکول نہیں جواب دہی ہے۔ان کے لیے کرسی اعزاز نہیں عوامی امانت ہے۔اسی لیے ان کا ہر دن کسی نہ کسی نئی پیش رفت، کسی نئے منصوبے، کسی نئی امید یا کسی نئے فیصلے کی خبر لے کر طلوع ہوا۔ وہ رکے نہیں، تھکے نہیں، جھکے نہیں بلکہ خود بھی آگے بڑھتے گئے اور ریاست کو بھی آگے بڑھاتے گئے۔
ان کی شخصیت کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے عوام بےساختہ تسلیم کرتے ہیں اور وہ ہے ان کی غیر معمولی وجاہت، جاذبیت اور اعتماد آفریں شخصیت۔ آزاد کشمیر کے کم عمر ترین وزرائے اعظم میں شامل یہ نوجوان رہنما جب عوام کے سامنے آتا ہے تو محض ایک سیاسی نمائندہ محسوس نہیں ہوتا بلکہ ایک توانائی، اعتماد اور امید کی متحرک تصویر دکھائی دیتا ہے۔
ان کا لب و لہجہ، اندازِ نشست و برخاست، گفتگو کا وقار اور چہرے کا اطمینان انہیں ایک غیر معمولی سیاسی کشش عطا کرتا ہے۔آپ ایک برانڈ کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔ایک دیومالائی ہیرو، ایک شہزادۂ گلفام۔۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر : مارکیٹوں، ہوٹلز، ریسٹورنٹس پرعائد پابندی ختم،نوٹیفیکیشن جاری
مگر ان کی خوبصورتی محض چہرے میں ہی نہیں بلکہ کردار میں بھی ہے۔ ان کی اصل دلکشی لباس میں نہیں صاف گوئی میں بھی ہے۔ وہ کھوکھلے وعدوں کے تاجر نہیں۔ اگر کام ممکن نہ ہو تو حقیقت بتاتے ہیں اور اگر ممکن ہو تو پوری قوت سے کر کے دکھاتے ہیں۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں شخصیت سے آگے کارکردگی بولنا شروع کرتی ہے۔مختصر عرصۂ اقتدار میں انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کے اندر جس برق رفتاری سے فلاحی و ترقیاتی اقدامات کی بنیاد رکھی وہ اپنی مثال آپ ہے۔قدرت نے کئی دھائیوں کا کام آپ سے انتہائی مختصر مدت میں لیا ہے۔
انہوں نے صرف سڑکیں نہیں بنائیں، فاصلے کم کیے ہیں۔انہوں نے صرف عمارتیں نہیں اٹھائیں، احساسِ محرومی کو گرایا ہے۔انہوں نے صرف اسکیمیں نہیں دیں، لوگوں کو یہ احساس دیا ہے کہ وہ بھی اس ریاست کے برابر کے شہری ہیں۔
آج اگر حویلی کا کوئی باسی یہ کہتا ہے کہ ہمیں پہلی بار محسوس ہوا کہ حکومت ہمارے دروازے تک آئی ہے تو یہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ، محسوس اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔
ایسے میں اگر کوئی اس قیادت کے راستے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ وہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک پورے عوامی سفر کا نقصان کر رہا ہے۔ وہ ان نوجوانوں کے خوابوں کی رفتار کم کر رہا ہے جنہیں روزگار کی امید ملی۔ وہ ان مریضوں کی آس توڑ رہا ہے
جنہیں علاج کی سہولت میسر آئی۔ وہ ان بچوں کے مستقبل کو دھندلا رہا ہے جن کے لیے تعلیم کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ ترقی کے راستے میں کھڑی کی جانے والی ہر دیوار دراصل عوام کے حق پر ڈاکہ ہے۔
یہ وقت جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر حقیقت کو پہچاننے کا ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کو اس وقت ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو نوجوان بھی ہو اور مدبر بھی، نرم خو بھی ہو اور فیصلہ کن بھی، وجیہہ بھی ہو اور باکردار بھی، عوامی بھی ہو اور وژنری بھی اور یہ تمام اوصاف ایک ہی نام میں مجتمع ہیں۔۔
راجہ فیصل ممتاز راٹھور
لہٰذا اس قیادت کے ہاتھ کمزور نہ کیے جائیں۔اس کے قدموں میں رکاوٹیں نہ رکھی جائیں۔اس کی راہوں میں کانٹے نہ بچھائے جائیں۔کیونکہ جو شخص آپ کے بچوں کے مستقبل کے لیے چراغ جلا رہا ہو اس کے ہاتھ سے دیا نہیں چھینا جاتا بلکہ اس چراغ کے گرد حصار بنایا جاتا ہے۔
راجہ فیصل ممتاز راٹھور صرف ایک وزیراعظم نہیں وہ امید کا دوسرا نام ہیں، وہ حویلی کی سانس ہیں اور وہ آزاد کشمیر کے ابھرتے ہوئے کل کی سب سے روشن پیشانی ہیں۔




