آئی سی سی نے اپنا اہم ترین اجلاس قطر سے احمد آباد منتقل کر دیا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے رواں ماہ کے آخر میں شیڈول اپنی اہم ترین سہ ماہی میٹنگز قطر کے دارالحکومت دوحہ کے بجائے بھارت کے شہر احمد آباد میں رکھنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

کرکٹ ماہرین کی جانب سے اس اقدام کو آئی سی سی کی بھارت پر خصوصی نوازشات کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

مشہور کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی یہ اہم ترین سہ ماہی میٹنگ پہلے قطر کے شہر دوحہ میں ہونا تھی تاہم خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی کو جواز بنا کر اسے منسوخ کیا گیا اور اب یہ اجلاس 30 اور 31 مئی کو بھارت کے شہر احمد آباد میں منعقد ہو گا۔ بھارتی میڈیا نے بھی اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ مئی کے آخری ایام میں ہونے والی اس فزیکل میٹنگ میں پی سی بی چیئرمین محسن نقوی اور پاکستانی وفد کی شرکت انتہائی غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں پاکستانی حکام کا بھارت جانا ممکن نظر نہیں آتا۔ تاہم اس اہم ترین اجلاس سے قبل 21 مئی کو آئی سی سی چیف ایگزیکٹوز کمیٹی کی ایک ورچوئل میٹنگ بھی شیڈول کی گئی ہے جس میں تمام اراکین آن لائن شرکت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی ویمن ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نےٹی 20میں نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

آئی پی ایل فائنل کا ٹکراؤ اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں توسیع:

احمد آباد میں ہونے والی اس دو روزہ بورڈ میٹنگ کے ایجنڈے میں کئی اہم ترین امور شامل کیے گئے ہیں جن پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آئی سی سی کا یہ اہم بورڈ اجلاس اسی ویک اینڈ پر ہو رہا ہے جب احمد آباد شہر میں ہی آئی پی ایل 2026 کا فائنل میچ بھی شیڈول ہے جس کی وجہ سے بھارتی کرکٹ بورڈ کی یہاں گہری دلچسپی دکھائی دیتی ہے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بورڈ اس بیٹھک میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فارمیٹ کو وسعت دینے پر غور کر رہا ہے جس کے تحت ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں کی تعداد کو 9 سے بڑھا کر 12 تک کیا جانا تجویز کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیشی وفد کا دورہ اور کرکٹ سیاست:

اس اہم اجلاس کے دوران بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا ایک باقاعدہ وفد بھی خصوصی طور پر بھارت جائے گا جہاں وہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے پیدا ہونے والے مروجہ معاملات پر آئی سی سی حکام سے تفصیلی بات چیت کرے گا۔ آئی سی سی کی جانب سے اچانک اجلاس کو بھارت منتقل کرنے کے فیصلے پر کرکٹ حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کا یہ فیصلہ خالصتاً روایتی حریفوں کے مابین کرکٹ سیاست کا حصہ معلوم ہوتا ہے تاکہ پاکستان کو عالمی کرکٹ کے دور رس فیصلوں کے عمل سے دور رکھا جا سکے۔ دوحہ کی منسوخی کے بعد کسی غیر جانبدار ملک کا انتخاب کرنے کے بجائے براہ راست احمد آباد کا انتخاب کرنا آئی سی سی کے جھکاؤ کو واضح کرتا ہے جس سے مستقبل میں ایشیائی کرکٹ کے تنظیمی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: آئی سی سی نے سلو اوور ریٹ پر پاکستان ٹیم جرمانہ عائد کر دیا