سینٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد کااحتجاجی تحریک کا اعلان، یکم جون سے دھرنے کی دھمکی

سینٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد نے وکلا کے دیرینہ مطالبات کی عدم منظوری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو یکم جون تک کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بار کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ریاست گیر احتجاجی تحریک اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

سینٹرل بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ ضیغم افتخار ایڈووکیٹ اور دیگر رہنماؤں نے حکومت سے “وکلا پروٹیکشن ایکٹ” کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وکلا کو پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بار کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وکلا کے لیے ہیلتھ کارڈ اور طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، وکلا برادری کے لیے مخصوص ہاؤسنگ پلاٹس الاٹ کیے جائیں اور پراسیکیوٹرز و لیگل ایڈوائزرز کی تنخواہوں میں فی الفور اضافہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ صحت میں بھرتیوں کا عمل متنازع، ہائی کورٹ کی ڈی ایچ او کو سخت سرزنش

وکلا رہنماؤں نے جوڈیشل کمپلیکس مظفرآباد کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں، جس سے وکلا اور سائلین دونوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمپلیکس میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور دیگر ضروری سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں۔

بار ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو یکم جون 2026 سے باقاعدہ احتجاج اور دھرنوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔ وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

Scroll to Top