امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن 4 مئی کو روک دیا گیا تھا تاہم اب بڑے فوجی آپریشن کے حصے کے طور پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا، کارروائی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں:ہمارے منصوبے امریکی صدر کو خوش کرنے کیلئے نہیں بنائے جاتے ،ایرانی خبر ایجنسی
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ تجویز کردہ معاہدے پر تنازع کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔
انہوں نے ایرانی تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے یورینیم دینے پر راضی تھا اور اب انکاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں کیوں کہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی تجویز احمقانہ ہے، اومابا اور بائیڈن ہوتے تو شاید ایرانی تجویز قبول کرلیتے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ایران کے ساتھ نمٹ کر دنیا کے لیے خدمات پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے کوئی دباؤ یا کوفت محسوس نہیں کر رہا ہوں، ہم نے بڑی فوجی کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کی تاریخ سامنے آ گئی، عالمی سطح پر تیاریاں شروع
دوسری طرف ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
باقر قالیباف کا کہنا ہےکہ غلط حکمت عملی اور غلط فیصلے ہمیشہ غلط نتائج ہی پیدا کرتے ہیں، یہ بات پوری دنیا اب سمجھ چکی ہے، ہم ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں، وہ حیران رہ جائیں گے۔




