سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں، جہاں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث ملک بھر میں سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

پاکستان بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر مسلسل اور نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے خریداروں اور سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے باعث مقامی صرافہ بازاروں میں بھی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں فی تولہ سونا اب تک کے بلند ترین ریٹ پر فروخت ہو رہا ہے۔

عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور ڈالر کا اثر
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 78 ڈالر کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد فی اونس سونا 4744 ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ڈیل سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے عالمی منڈی میں ہلچل پیدا کر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ صرف دو روز کے دوران فی اونس سونا مجموعی طور پر 190 ڈالر مہنگا ہو چکا ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی قیمتوں پر پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے، فی اونس قیمت 4700 ڈالر سے تجاوز!

مقامی مارکیٹ کے تازہ ترین نرخ
آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 7800 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 96 ہزار 762 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 6687 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 893 روپے ہو گئی ہے۔ اس اضافے کے بعد فی تولہ سونا صرف دو روز میں تقریباً 19 ہزار روپے تک مہنگا ہو چکا ہے۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت میں 373 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد چاندی کی نئی قیمت 8445 روپے فی تولہ تک جا پہنچی ہے۔ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اس تیزی نے جیولری مارکیٹ میں لین دین کے عمل کو بھی متاثر کیا ہے۔

مستقبل کی صورتحال اور ماہرین کی رائے
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال جب تک برقرار رہے گی، قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی قوتوں کے درمیان سفارتی پیش رفت سونے کی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ سرمایہ کار اس وقت سونے کو محفوظ ترین اثاثہ تصور کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔