قومی غیرت، جرات اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے والی فتوحات کی تاریخ کو یکجا کرنے والی نئی کتاب ’معرکہ حق‘ کی پروقار تقریبِ رونمائی 5 مئی 2026 کو منعقد کی جائے گی۔ یہ کتاب محض ایک تحریر نہیں بلکہ پاکستان کے دفاع، وقار اور دانشمندانہ سفارت کاری کا ایک جامع عکاس ہے، جس میں دشمن کی ہر چال کو ناکام بنانے کی مکمل داستان تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔
کتاب میں اس درخشاں باب کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا ہے جب پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوگئی اور دنیا پر ثابت کیا کہ وطن کا دفاع ہر قیمت پر مقدم ہے۔ ’معرکہ حق‘ میں خاص طور پر بھارت کی جانب سے کی جانے والی ریشہ دوانیوں، فالس فلیگ آپریشنز اور ریاستی سرپرستی میں پھیلی دہشت گردی کو مکمل طور پر بے نقاب کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد میں کھیلوں کا بڑا میلہ: ’معرکۂ حق چنار والی بال لیگ 2026‘ کا شاندار آغاز
کتاب کے مندرجات کے مطابق، جب بھی دشمن نے مہم جوئی کی کوشش کی، پاک فوج نے ایسا دندان شکن جواب دیا کہ دشمن کو اپنی جان بچانے کے لیے عالمی ثالثوں کی منت سماجت کرنا پڑی۔ یہ کتاب پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام اور عوامی و عسکری اتحاد کی وہ زندہ مثال ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔
پاکستان کی تاریخ ایسے کئی معرکوں سے بھری پڑی ہے جہاں عددی برتری کے زعم میں مبتلا دشمن کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ’معرکہ حق‘ کا پس منظر ان حالیہ برسوں کے واقعات پر مبنی ہے جب سرحدوں پر کشیدگی اور اندرونی خلفشار پیدا کرنے کی غیر ملکی سازشیں عروج پر تھیں۔ اس دوران پاک فوج نے نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کی بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اس کتاب کا مقصد ان فتوحات کو دستاویزی شکل دینا ہے تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ پاکستانی قوم اور فوج ایک جان و دو قالب ہیں۔
مزید پڑھیں: معرکہ حق میں پاک فضائیہ کی برتری، عالمی دفاعی مارکیٹ میں چینی جنگی طیاروں کی دھاک بیٹھ گئی
موجودہ دور میں ’معرکہ حق‘ جیسی کتب کی اشاعت وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ جہاں ہائبرڈ وار فیئر کے ذریعے ذہنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، وہاں اپنی فتوحات اور دشمن کی مکاریوں کو دستاویزی شکل دینا ’انفارمیشن وار‘ میں ایک اہم ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف سفارتی محاذ پر پاکستان کے مضبوط موقف کی تائید کرتی ہے بلکہ دشمن کے اس پروپیگنڈے کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ عالمی ثالثوں کی مداخلت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔




