اسلام آباد:ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات،یہ صرف ایک مصرعہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے مزدورطبقے کی روزمرہ حقیقت کی عکاسی ہے جو اپنی محنت سے زندگی کا پہیہ چلاتا ہے۔
یوم مزدور کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل کااعلان کیا گیا ہے،تقریبات بھی ہوں گی مگر دوسری جانب محنت کش طبقے کے لیے آج کا دن بھی کسی عام دن سے مختلف نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مردان کان حادثہ ،مردہ سمجھا جانے والا مزدور 17 دن بعد زندہ مل گیا
صبح سویرے گھروں سے نکل کر دیہاڑی کی تلاش، سخت دھوپ اور مشقت کے باوجود معمولی اجرت یہی اس کا مقدر ہے۔
سرکاری سطح پر مزدور کے حقوق کی باتیں ضرور کی جاتی ہیں، مگر عملی میدان میں حالات زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتے۔
ایک طرف ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں مزدور کی اہمیت پر گفتگو ہوتی ہے تو دوسری طرف وہی مزدور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے آج بھی کام پر مجبور ہے۔
یکم مئی کا دن جہاں دنیا بھر میں محنت کشوں کے حقوق اور ان کی قربانیوں کو یاد کرنے کے لیے منایا جاتا ہے، وہیں ہمارے ہاں یہ دن ایک تلخ سوال بھی چھوڑ جاتا ہے،کیا واقعی مزدور کو اس کا حق مل رہا ہے، یا وہ آج بھی صرف نعرے اور وعدوں تک محدود ہے؟
یوم مزدور کے موقع پر صدر، وزیراعظم نے پیغامات میں مزدوروں کے حقوق کے دفاع کا اعادہ کیا ہے اور مزدوروں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔
مزدوروں کے استحصال کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،وزیراعظم آزادکشمیر
وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق مزدوروں کی فلاح وبہبود کیلئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے، اسلام محنت کی عظمت پر مکمل یقین رکھتا ہے، ارشاد نبوی ﷺہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل دی جائے۔
اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام محنت کی عظمت کو کس قدر اہمیت دیتا ہے،پیپلز پارٹی محنت کشوں کی جماعت ہے شہید بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو نے مزدوروں کو حقوق دئیے اور انہیں پاسپورٹ کا حق دیا جس کی وجہ سے اس وقت ہمارے لاکھوں مزدور مشرق وسطی میں مزدوری کر کے خوشحالی میں زندگی گزار رہے ہیں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے تمام طبقات جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ان کی بہتری کے لیے اقدامات کئے جائیں۔ بنیادی صحت اور محکمہ تعلیم میں اصلاحات سے بھی مزدور طبقہ کو فائدہ ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر : مزدور طبقے نے حکومت سے فوری امداد کی اپیل کر دی
آزاد کشمیر میں مزدوروں کے استحصال کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور جہاں بھی اس طرح کی کوئی رپورٹ ملی وہاں سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مزدوروں کی کم ازکم اجرت، کام کے سازگار ماحول، ان کی صحت کی سہولیات اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے جہاں ضروری ہوا قانونی اور انتظامی اصلاحات کی جائیں گے۔ لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنا رہے ہیں۔




