محکمہ موسمیات نے مئی کے مہینے میں النینو کے فعال ہونے کے قوی امکانات ظاہر کیے ہیں، جس کے باعث ملک کے جنوبی علاقوں میں 29 اپریل سے 3 مئی کے دوران کم شدت کی ہیٹ ویو کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔
اس خطرناک موسمی لہر کے دوران درجہ حرارت بعض اوقات 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ ہیٹ ویو الرٹ کے مطابق علاقائی اور عالمی موسمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ای این ایس او اور آئی او ڈی فی الحال نیوٹرل حالت میں برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں شدید گرمی کی پیشگوئی، پنجاب میں ہیٹ ویو 12 جون تک برقرار رہنے کا امکان
بیشتر عالمی موسمیاتی ماڈلز کے مطابق مئی سے جولائی کے دوران النینو کے فعال ہونے کے 61 فیصد امکانات موجود ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ غیر معمولی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، اور اگر کسی شدید ہیٹ ویو کے امکانات پیدا ہوئے تو شہریوں کو بروقت مطلع کر دیا جائے گا۔ جنوبی علاقوں میں گرمی کی اس لہر کے برعکس ملک کے بالائی علاقوں پر یکے بعد دیگرے دو مختلف مغربی سلسلے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ پہلا سسٹم 27 اپریل کی رات سے 29 اپریل تک جبکہ دوسرا 3 مئی سے 5 مئی کے دوران اثر انداز ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے ان علاقوں میں درجہ حرارت میں 2 تا 4 ڈگری سینٹی گریڈ کمی متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مئی اور جون سال کے گرم ترین مہینے ہوتے ہیں۔ جنوبی پنجاب، بالائی سندھ اور جنوب مشرقی بلوچستان ملک کے وہ علاقے ہیں جو زیادہ گرمی سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان علاقوں میں مئی اور جون کے دوران معمول کا درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے، لیکن مشاہداتی اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ان علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے 2 تا 4 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔ النینو اور لانینا ایک ہی بڑے موسمی نظام ‘ای این ایس او’ کے دو مختلف مراحل ہیں جو بحرالکاہل کے درجہ حرارت اور ہواؤں کی تبدیلی سے منسلک ہیں۔
مزید پڑھیں: ملک کے مختلف حصوں میں ابرِ رحمت کی برسات، محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی خوشخبری سنا دی
النینو کے فعال ہونے کے بعد بحرالکاہل کے درمیانی اور مشرقی حصے کا پانی عام حالت سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان پر براہ راست اثر ڈالتی ہے جس کے نتیجے میں ملک کو زیادہ گرمی، کم ہواؤں اور کم بارشوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں خشک سالی جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس لانینا میں بحرالکاہل کا پانی ٹھنڈا ہو جاتا ہے جس سے پاکستان اور جنوبی ایشیا میں تیز ہوائیں، زیادہ بارشیں اور سردی پڑتی ہے۔ ترجمان و ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات انجم نذیر ضیغم نے بتایا کہ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت سمندر کا درجہ حرارت معمول سے 0.5 ڈگری زیادہ ہے، اور جیسے ہی یہ 0.8 ڈگری تک پہنچے گا تو مئی میں النینو فعال ہونے کے 61 فیصد امکانات مکمل ہو جائیں گے۔




