ملک کے مختلف حصوں میں ابرِ رحمت کی برسات، محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی خوشخبری سنا دی

ملک کے مختلف حصوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا ہے جس سے گرمی کی شدت میں کمی آئی ہے۔

آزاد کشمیر کے شہر کوٹلی اور گردونواح میں بھی تیز ہوائیں چلنے سے گرمی بھاگ گئی ہے۔ لمحہ بہ لمحہ بڑھتے بادلوں نے سورج کو چھپا لیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بارش ہوگی۔ اس بارش کی وجہ سے گرمی کچھ دن کے لیے غائب ہو جائے گی۔

پنجاب کے مختلف شہروں جن میں لاہور، لودھراں، وہاڑی، بورے والا، رحیم یارخان، راجن پور اور جہانیاں شامل ہیں، وہاں سے بارش کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تاہم جہانیاں میں بارش کے دوران ایک افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا جہاں دیوار گرنے سے 3 افراد زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر کب تک رہے گی؟محکمہ موسمیات کاالرٹ جاری

لاہور اور اسلام آباد کی صورتحال

صوبائی دارالحکومت لاہور میں رات گئے ہونے والی بارش کے بعد موسم کافی خوشگوار ہو گیا ہے اور درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہو کر 27 ڈگری سینٹی گریڈ تک آ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں ہوا کی رفتار 13 کلومیٹر فی گھنٹہ اور نمی کا تناسب 54 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لاہور کے آسمان پر اس وقت 78 فیصد بادلوں کا راج ہے اور دن بھر سورج و بادلوں کی آنکھ مچولی جاری رہنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (شہرِ اقتدار) میں بھی بادلوں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں، جہاں صبح کے وقت درجہ حرارت 25 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، تاہم دن میں پارہ 37 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔

سندھ میں بارش اور کراچی میں ہیٹ ویو کا الرٹ

سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی موسمی صورتحال بدل رہی ہے۔ گھوٹکی اور اوباڑو میں تیز آندھی کے بعد ہلکی بارش ہوئی، جبکہ قمبر، شہداد کوٹ، سکھر اور شکارپور میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ ان شہروں میں نکاسیِ آب کا نظام ناقص ہونے کی وجہ سے معمولی بارش بھی سیلابی صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس کراچی میں صورتحال تشویشناک ہے جہاں محکمہ موسمیات نے ‘ہیٹ ویو’ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ شہرِ قائد میں آج درجہ حرارت 37 ڈگری تک جا سکتا ہے، مگر سمندری ہواؤں کی رفتار کم ہونے اور حبس کے باعث گرمی کی شدت 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جائے گی۔

موسمیاتی تبدیلیوں اور النینو کے اثرات

پاکستان اس وقت عالمی موسمیاتی رجحان ’النینو‘ کے زیرِ اثر ہے، جس کے باعث ملک میں معمول سے زیادہ گرمی پڑنے کا امکان پہلے ہی ظاہر کیا جا چکا تھا۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی اور جون میں اس طرح کی بارشیں ’پری مون سون‘ کا حصہ ہیں، لیکن ان کی شدت اور اچانک آمد کلائمیٹ چینج کی واضح علامت ہے۔ کراچی جیسی جگہوں پر کنکریٹ کی عمارتوں کی کثرت کی وجہ سے درجہ حرارت اصل سے کہیں زیادہ محسوس ہوتا ہے، جسے ‘فیلز لائک’ ٹمپریچر کہا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کہیں بارش اور کہیں شدید گرمی جیسے متضاد رنگ دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

Scroll to Top