آنکھوں کے سامنے پڑی چیز ہمیں کیوں نظر نہیں آتی؟ انسانی دماغ کی حیرت انگیز حقیقت

اکثر ہمارے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی چیز بالکل آنکھوں کے سامنے ہوتی ہے مگر ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔ کئی لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ایک شخص کسی چیز کو ہر جگہ ڈھونڈ کر تھک جاتا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اسے وہ چیز کہیں نہیں ملی۔ لیکن اتنے میں کوئی دوسرا شخص کمرے میں آتا ہے اور ایک سرسری نظر ڈالتے ہی وہی چیز ڈھونڈ لیتا ہے۔ وہ فوراً کہتا ہے کہ یہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی تو پڑی ہے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ دو مختلف افراد کے دماغ ایک ہی چیز کے بارے میں الگ الگ انداز میں کام کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق روزمرہ کے ماحول میں چیزوں کو تلاش کرنے کا انحصار ہماری بصری تلاش یعنی ‘ویژول سرچ’ کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارا دماغ اس معاملے میں کافی کمزور ثابت ہوتا ہے۔ کبھی کبھار جب کوئی چیز بالکل سامنے ہو تب بھی دماغ اس کی موجودگی کو تسلیم نہیں کرتا، یعنی ہم آنکھیں ہونے کے باوجود اسے دیکھ نہیں پاتے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی آزاد کشمیر عمران خان کی رہائی کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گی ، صدر عبدالقیوم نیازی

بظاہر کسی چیز کو پہلی نظر میں ڈھونڈنا آسان لگتا ہے کیونکہ ہم کسی بھی سطح جیسے کچن کاؤنٹر یا دراز کو اس وقت تک سکین کرتے ہیں جب تک مطلوبہ چیز مل نہ جائے۔ لیکن حقیقت میں دماغ ایک ہی وقت میں منظر میں موجود تمام چیزوں کا تجزیہ نہیں کر سکتا بلکہ یہ توجہ دینے کی صلاحیت پر کام کرتا ہے۔

اور پڑھیں: اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کا اہم اعلان

ماہر نفسیات ہماری توجہ کو ایک ‘سپاٹ لائٹ’ سے تشبیہ دیتے ہیں جو سامنے کے منظر کو سکین کرتی ہے۔ جہاں یہ سپاٹ لائٹ پڑتی ہے دماغ وہاں کی معلومات پر تفصیل سے غور کرتا ہے، لیکن اس لائٹ سے باہر موجود چیزوں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔

مزید پڑھیں: وائٹ ہاؤس کویسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کی آوازیں ، سکیورٹی اہلکار صدر ٹرمپ کولے کر باہر چلے گئے

Scroll to Top