مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے طلباء کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
ڈویژن بینچ جسٹس سید شاہد بہار، سینئر جج ہائی کورٹ، اور جسٹس چودھری خالد رشید پر مشتمل تھا، جس نے مقدمہ عنوانی عائشہ مصطفیٰ بنام یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر وغیرہ کو یکسو کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا ۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یونیورسٹی کی اس پالیسی کو امتیازی اور غیر منصفانہ قرار دیا جس کے تحت صرف 2023 کے بعد داخل ہونے والے طلباء کو دو سالہ ڈگری (ایگزٹ ڈگری) دینے کی اجازت دی گئی تھی ۔
اس سے قبل داخل ہونے والے طلباء کو اس سہولت سے محروم رکھا گیا۔ عدالت کے مطابق ایک ہی نوعیت کے طلباء کے ساتھ مختلف سلوک آئینی اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:لوکل گورنمنٹ فنڈز تقسیم سے متعلق درخواست ، ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ محفوظ کرلیا
فیصلے میں Doctrine of Legitimate Expectation کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ طلباء کو اس بات کی جائز توقع ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ یکساں حالات میں یکساں سلوک کیا جائے گا ۔
کسی بھی پالیسی کا اطلاق مخصوص گروہ تک محدود رکھنا قانونی طور پر درست نہیں ۔ عدالت نے اس اصول کو بنیادی قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کی پالیسی کو کالعدم قرار دیا ۔
مزید برآں، فاضل عدالت نے Doctrine of Continuing Mandamus کے تحت یونیورسٹی حکام کوہدایت جاری کی کہ وہ طلباء کی درخواستوں کو فوری طور پرنمٹاتے ہوئے 30 دن کے اندر ڈگریاں جاری کریں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس ہائیکورٹ نےکون سے افسران کی ترقیاں منسوخ کیں؟ نام سامنے آگئے
تعلیمی ریکارڈ درست کریں اور تمام متعلقہ فوائد فراہم کریں۔ عدالت نے یونیورسٹی کو پابند کیا کہ وہ دو ماہ کے اندر تعمیلی رپورٹ پیش کرے تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے ۔




