مظفرآباد: ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے ممبر الیکشن کمیشن سید نذیر الحسن گیلانی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی رٹ پٹیشن کو خارج کر دیا ہے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس سردار لیاقت حسین شاہین اور جسٹس چوہدری خالد رشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اس اہم کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ سنایا۔
تفصیلات کے مطابق ایڈووکیٹ سردار عثمان قاسم نے عدالتِ عالیہ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت نے 10 جنوری 2025 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے سید نذیر الحسن گیلانی کو ممبر الیکشن کمیشن مقرر کیا جو کہ 13 جنوری 2025 کو گزٹ میں شائع ہوا۔ درخواست گزار کا دعویٰ تھا کہ یہ تقرری آئینِ آزاد کشمیر کی دفعہ 50(5) کی صریحاً خلاف ورزی ہے کیونکہ موصوف نے کبھی بی پی ایس 21 یا اس سے اعلیٰ گریڈ میں خدمات انجام نہیں دیں، جو کہ اس عہدے پر تعیناتی کے لیے ایک لازمی قانونی شرط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرپور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، سابق ممبر اسمبلی ناصر حسین ڈار کا اسٹیٹ سبجیکٹ چیلنج
درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ سید نذیر الحسن گیلانی کی تقرری کو غیر قانونی اور آئین کے منافی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔ تاہم ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے فریقین کے دلائل سننے اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد درخواست گزار کا مؤقف مسترد کر دیا اور رٹ پٹیشن خارج کر دی۔ اس فیصلے کے بعد سید نذیر الحسن گیلانی کی بطور ممبر الیکشن کمیشن تقرری برقرار رہے گی۔




