مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) سابق وزیر سیاحت، ٹرانسپورٹ و کھیل محمد طاہر کھوکھر نے موجودہ حکومتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران طبقہ عوام کو کفایت شعاری کا درس دیتا ہے مگر خود شاہانہ طرزِ زندگی اپنائے ہوئے ہے، جو کھلا تضاد اور عوام کے ساتھ ناانصافی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق محمد طاہر کھوکھر نے کہا ہے کہ ملک کا غریب اور متوسط طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور لاکھوں خاندان ایسے ہیں جن کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں ۔
طاہر کھوکھرکہا کہ حکمران ایک طرف عوام کو کفایت شعاری اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں جبکہ دوسری جانب خود عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں جو نہ صرف تضاد ہے بلکہ عوام کے ساتھ ناانصافی بھی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ کے غیر ضروری اخراجات کا بوجھ بالآخر عام آدمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک اس وقت مسلسل معاشی، سیاسی اور انتظامی تجربات کی زد میں ہے، جن کے منفی اثرات براہ راست عوام پر پڑ رہے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ریاستی حکومت کشمیری مہاجرین کے مسائل حل کرے، طاہر کھوکھر
انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی میں تسلسل کا فقدان ہے اور ہر نئی پالیسی عوام کے لیے مزید مشکلات کا سبب بن رہی ہے ، جس سے ملک ایک تجربہ گاہ بن چکا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ملک عملاً امیروں کیلئے فلاحی ریاست بن گیا ہے جہاں وسائل اور سہولیات کا بڑا حصہ مراعات یافتہ طبقے کو حاصل ہے جبکہ غریب عوام بنیادی ضروریات کے حصول کیلئےبھی ترس رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی حکمرانوں اور بیوروکریسی کا بوجھ اٹھا رہا ہے جبکہ حکمران اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں ۔
سابق وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے جن میں معیاری تعلیم، جدید طبی سہولیات، صاف پانی، روزگار کے مواقع اور سماجی تحفظ شامل ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عوام کو بنیادی حقوق اور انصاف کی فراہمی ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے:طاہر کھوکھر
تاہم موجودہ حالات میں حکومت ان بنیادی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام نظر آتی ہے، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔




