نیلم (کشمیر ڈیجیٹل): صدر پاکستان مسلم لیگ ن و اپوزیشن لیڈر آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر نے گزشتہ روز عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایک شوشہ چھوڑایا کہ حکومت پاکستان نے فنڈز روک دئیے۔
انہوں نے حکومت آزاد کشمیر سے سوال کیا کہ اگر حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کے فنڈز بند کیے ہیں تو ایک ارب روپیہ کا فنڈ جو حال ہی میں ریلیز ہوا ہے وہ کہاں سے آیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کے بجائے عوام کے کام کریں اور انہیں سہولیات فراہم کریں۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا پاکستان کی کارکردگی کی تعریف کر رہی ہے اور دنیا کے امن کے لیے پاکستان میں بیٹھک ہو رہی ہے مگر حکومت آزاد کشمیر کو یہ نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق حکومت آزاد کشمیر اپنی ناکامی چھپانے کے لیے حکومت پاکستان پر الزام لگا رہی ہے۔شاہ غلام قادر نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان فنڈز روکتی تو صحت کارڈ اور دانش سکول آزاد کشمیر میں نہ دیے جاتے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تجویز، بی آئی ایس پی وظیفے میں اضافے کا امکان
انہوں نے یہ خیالات حلقہ لوئر نیلم ایل اے 26 نیلم 2 اٹھمقام مرکز وارڈ نمبر تین میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اظہار کیے، جہاں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنماوں ظہیر میر، لعل حسین میر، عمر میر، بلال میر، رویس میر، عرفان میر، حنیف شیخ، مرزا سکندر حیات، فرید شیخ، ہاشم میر، اعجاز راجہ، علی اصغر خان، عامر میر، نذیر شیخ، نذیر اعوان، ازرار اعوان، منظور شیخ، فرقان شیخ، لطیف شیخ، شیراز میر، شوکت خان، عامر بٹ، عزیز الرحمان، عطاء الرحمن، سدھیر مغل، فرقان خان، علی میر، اشفاق خان، محمد اسحاق خان ودیگر نے اپنے خاندانوں کے ہمراہ مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی پیکج ہوگا کیونکہ ایم ایل اے کی حکومت میں تعلیمی پیکج کے لیے فنڈز مختص کیے گئے تھے اور تعلیمی پیکج تیار ہو چکا تھا، تاہم پیپلزپارٹی کی اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلزپارٹی آزاد کشمیر میں اپنی ناکامی کا ملبہ حکومت پاکستان پر ڈال رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان آزاد کشمیر میں کسی بھی کام میں رکاوٹ نہیں بلکہ حکومت آزاد کشمیر خود رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق ایم ایل اے کی حکومت میں تعلیمی پیکج، صحت پیکج اور لنک سڑکوں کے لیے فنڈز رکھے گئے تھے۔ صحت پیکج ایم ایل اے کی حکومت میں جاری ہو گیا تھا جبکہ تعلیمی پیکج تیار ہونے کے باوجود جاری نہ ہو سکا، جو اب وہی جاری ہوگا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلزپارٹی تعلیمی پیکج کو برباد کرنے کی سازش کر رہی ہے اور اس کا ملبہ وفاقی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کے پاس انتخابات کے لیے کوئی اور بیانیہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے کی حکومت میں ہر حلقے کے لیے 30 کلومیٹر لنک سڑکوں کے فنڈز رکھے گئے تھے، جبکہ پیپلزپارٹی نے اپنے حلقوں کے لیے 60 کلومیٹر سڑکوں کا ہوم ورک شروع کر دیا، جس کے لیے بجٹ میں رقم موجود نہیں تھی۔ مالیات نے اضافی فنڈز کی منظوری نہیں دی جبکہ 30 کلومیٹر سڑکوں کے فنڈز بدستور موجود ہیں اور کئی حلقوں میں ٹینڈرز بھی جاری ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کے عوام پیپلزپارٹی کے جھانسے میں نہ آئیں، مسلم لیگ ن کا ساتھ دیں ، شاہ غلام قادر
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اپنی ناکامی کا بوجھ حکومت پاکستان، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور محکمہ مالیات پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یقین نہیں آتا تو محکمہ مالیات سے حقائق معلوم کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی دھونس دھاندلی کے ذریعے معصوم بننے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
شاہ غلام قادر نے کہا کہ نیلم ویلی آزاد کشمیر کا سب سے بڑا ضلع ہے، اسی لیے اسے دو حلقوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ عوام کے مسائل کم ہوں۔ ان کے مطابق اس تقسیم کے نتیجے میں فنڈز دوگنا ہوئے اور عوام کو سکول، ہسپتال، سڑکات، نوکریوں اور لوکل گورنمنٹ کے فنڈز کی صورت میں زیادہ سہولیات مل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں اٹھمقام اور ملحقہ علاقوں کے لیے پانی کے منصوبے کا آغاز کیا گیا، جس میں ٹینکی اور پائپ بھی فراہم کیے گئے تاکہ عوام کو پانی مل سکے، تاہم کچھ وجوہات کی بنا پر یہ منصوبہ رک گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 2021 میں وہ لوئر حلقے سے الیکشن لڑتے تو یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ لوئر حلقے میں جہاں انہوں نے کام چھوڑا تھا وہیں کا وہیں ہے اور ایک انچ بھی ترقی نہیں ہوئی۔ انہوں نے لنک سڑکوں کی خراب حالت پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ کٹن جاگراں سڑک کا افتتاح کر دیا گیا مگر اس کے لیے ایک روپیہ بھی مختص نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ رمضان میں اپوزیشن کو دی گئی افطاری کے موقع پر بھی انہوں نے اس سڑک اور پل کی تعمیر کا مطالبہ کیا تھا اور اپوزیشن کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر سے سوال کیا کہ ایک یونین کونسل میں تین پل اور ایک سڑک کے منصوبے دیے گئے، ٹینڈرز بھی ہو گئے اور سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا، مگر اس کے لیے رقم کہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود وزیر خزانہ رہ چکے ہیں اور اس معاملے میں حکومت واضح جواب دینے سے قاصر رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منصوبوں کے لیے بجٹ میں رقم شامل کرنا ضروری ہوتا ہے اور ضمنی بجٹ کے ذریعے اسے اسمبلی میں لانا چاہیے تھا، جس میں اپوزیشن مکمل تعاون کرتی۔
انہوں نے کہا کہ سادہ طریقے سے کٹن جاگراں سڑک اور پلوں کے لیے رقم مختص کی جا سکتی تھی مگر حکومت ایسا نہیں کرنا چاہتی اور عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ تعمیر و ترقی چاہتے ہیں یا کھنڈرات۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے مسلم لیگ ن کا ساتھ دینا ہوگا اور ان کی جماعت عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہے۔




