مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل): عدالت العالیہ آزاد کشمیر میں بلدیاتی نمائندگان کی طرف سے فنڈز اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے دائر اہم رٹ پٹیشن پر محفوظ شدہ فیصلہ کل سنایا جائے گا۔ یہ پٹیشن سردار جاوید شریف اور دیگر کی جانب سے ممبران اسمبلی کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
اس اہم کیس میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد معزز عدالت نے 7 اپریل 2026 کو حتمی بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اب معزز ججز مورخہ 23 اپریل 2026 کو یہ محفوظ شدہ فیصلہ کھلی عدالت میں سنائیں گے، جس سے بلدیاتی نمائندگان کے اختیارات اور فنڈز کے حوالے سے پیدا شدہ طویل قانونی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آزاد کشمیر کوٹہ کیسز سے متعلق اپیلوں کی سماعت کل کرےگی
واضح رہے کہ لوکل گورنمنٹ کے تقریباً 5 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز ممبران اسمبلی کے ذریعے خرچ کرنے کے خلاف بلدیاتی نمائندگان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جب ہائی کورٹ نے ابتدائی طور پر حکمِ امتناعی جاری نہیں کیا تو بلدیاتی نمائندگان نے سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں اپیل دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ممبران اسمبلی کے ذریعے فنڈز کی خرچ پر حکمِ امتناعی (Stay Order) جاری کر دیا تھا۔
بعد ازاں، سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس کیس کو دوبارہ ہائی کورٹ (عدالت العالیہ) کو ریمانڈ کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ اس معاملے کو میرٹ پر جلد از جلد یکسو کیا جائے، جبکہ سپریم کورٹ کا جاری کردہ حکمِ امتناعی برقرار رکھا گیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ آزاد کشمیر میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور مالیاتی شفافیت کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔




