امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے، امیر سعید

نیویارک: عالمی سفارتی محاذ پر آبنائے ہرمز کی بندش ختم ہونے کی نئی امیدیں پیدا ہونے لگی ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید نے ایک بہت بڑا انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو ایسے مثبت اشارے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے اب تیار ہو گیا ہے۔

نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر سعید نے بتایا کہ ایران کو اس بات کے مثبت اشارے ملے ہیں کہ امریکا مذاکرات کے دوسرے دور میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ یعنی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ناکہ بندی کا خاتمہ ’’اسلام آباد مذاکرات‘‘ میں ایران کی شرکت کے لیے پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوں ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی جائے گی، تہران اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں، مشیر ایرانی سپیکر

ایرانی پارلیمنٹ کا سخت مؤقف:

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کے مشیر نے امریکی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا جاری رہنا کسی بمباری سے مختلف نہیں ہے، جس کا جواب فوجی کارروائی سے ہی دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ ہارنے والا فریق کبھی اپنی شرائط ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔ مشیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں حالیہ توسیع کو محض ’’وقت حاصل کرنے کی ایک چال‘‘ قرار دیا ہے تاکہ اچانک حملہ کیا جا سکے ا۔

مزید پڑھیں: بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،عطا اللہ تارڑ

مذاکرات کی بحالی کا امکان:

ذرائع کے مطابق اگر امریکا عملی طور پر ناکہ بندی ختم کرنے کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو ایران ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ یا مذاکراتی عمل کا حصہ بن سکتا ہے۔ تاہم ایران کے اندرونی حلقوں کا دباؤ ہے کہ کسی بھی امریکی حملے سے بچنے کے لیے ضروری اور جوابی دفاعی اقدامات ہر صورت مکمل رکھے جائیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بہت اضافہ کر دیا ہے اور یورپ سمیت کئی ممالک میں ایندھن کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ پاکستان اس وقت ان مذاکرات میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ 2026 کے اس تناظر میں یہ پیش رفت عالمی امن کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

Scroll to Top