اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ تہران کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ امریکا اپنی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی یہ ہوتا ہے مذاکرات کے اگلے دور کا انعقاد اسلام آباد میں ہو گا، ایران کی شرط یہ ہے کہ بات چیت کے دوبارہ آغاز سے پہلے امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی میں توسیع پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ،پاکستان تنازعات حل کیلئے کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم شہبازشریف
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا سیاسی حل چاہتا ہے تو ایران اس کے لئے تیار ہے اور اگر وہ جنگ چاہتا ہے تو ایران اس کے لئے بھی تیار ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد بھیجنے کا فیصلہ ابھی فیصلہ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے سمندر میں بحری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی کیلئے دو ایرانی بحری جہازوں کے خلاف اقدام کیا۔
ایرانی سپیکر باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مذاکرات سے قبل آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں، مشیر ایرانی سپیکر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود ایران کی طرف سے مذاکرات کی حامی نہیں بھری گئی ہے۔




