پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن پارلیمانی بورڈ کیخلاف سڑکوں پر آگئے،9مطالبات پیش

پی ٹی آئی آزاکشمیر کے بنیادی نظریاتی اور مخلص سیکڑوںکارکنوں نےسینٹرل آفس اسلام آباد میں غیر منصفانہ اور متنازعہ پارلیمانی بورڈ کے خلاف شدید احتجاج کیا اور احتجاجی دھرنا دیا۔

کارکنوں کا کہنا تھا کہ مرکزی قیادت نے نوٹس نہ لیا تو احتجاج کی دائرہ کار کو بڑھا جائے گا کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں اس پارلیمانی بورڈ کے فیصلوں سے آمدہ الیکشن میں پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہونے جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کی رجسٹریشن نہ ہونے پر کیا حکمت عملی ہوگی؟خواجہ فاروق نے بتا دیا

احتجاج کے دوران اسلام آباد پولیس نے سینٹرل آفس پر دھاوا بول دیا اور درجنوں کارکنان کو گرفتار کر لیا،کارکنوں نے 9 مطالبات پیش کئے ہیں

کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ غیر منصفانہ اور متنازعہ پارلیمانی بورڈ کو منسوخ کر کے مرکزی قیادت کی چیئرمین شپ میں ایک ایسا پارلیمانی بورڈ کا قیام عمل میں لایا جائےجس میں بنیادی نظریاتی اور پارٹی کے مخلص لوگوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے۔ جس میں یوتھ، آئی ایس اور وویمن کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔

پارٹی رجسٹریشن میں جان بوجھ کر مجرمانہ غفلت کی گئی،تاخیری حربے اپناتے ہوئے نہ اسے آزادکشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا بلکہ سب سے بڑا بلنڈر یہ کیا گیا کے نئے اکاؤنٹ جمع کرانے کے بجائے غیر ضروری طور پر پرانے اکاونٹس اور آڈٹس کو فائلُ حصہ بنا کر الیکشن کمیشن کو اعتراضات لگانے کا موقع فراہم کیا گیا۔ یہ سب کرنے والے سازشی کردار کون ہیں۔ ان کرداروں کو شوکاز نوٹس دے کر وضاحت طلب کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی آزادکشمیر کا پارلیمانی بورڈ میں اختلافات؟نظریاتی ممبر الزامات لگا کر مستعفی ہو گیا

کارکنوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے آڈٹ اعتراضات کیا ہیں۔ کس دورانیے کے ہیں اور اصل ماجرہ کیا اور صدر تحریک انصاف نے ابھی تک پارٹی فنڈرز اور دیگر فنڈ رز کی مد میں کتنے اور کہاں خرچ کیے ہیں۔

اس کی مکمل تفصیلات پبلک کی جائیں اور ایک کمیٹی بنا کر اس مسئلے کی چھان بین کی جائے۔ تاکہ زمہ داران کا تعین ہو سکےان کے خلاف کاروائی کی جا سکے۔

کارکنوں کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب کے تین دفعہ کے حکم کے خلاف ورزی کرتے ہوئے سے غداری کرنے والے چھبیس منحرف اراکین کیخلاف کبھی کوئی کاروائی کیوں نہیں کی گئی۔

سابق سیکرٹری جنرل راجہ منصور خان نے انہیں جب شو کاز نوٹس دیے تو اس ہفتے اسے سیکرٹری جنرل کی پوسٹ سے کیوں ہٹایا گیا۔

چھبیس میں سے صرف دو اراکین کے خلاف اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر نااہلی ریفرنس کیوں دائر کیا گیا۔ باقی کسی پر کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوئی۔ کیوں ان شوکاز نوٹسز پر کاروائی روک دی گئی۔

کارکنوں کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب کے واضع احکامات کے باوجود پی ٹی آئی آزادکشمیر کے مرکزی عہداروں نے کس کے حکم پر ایکشن کمیٹی کے عوامی احتجاجوں اور ایکشن کمیٹی سے دوری اختیار کیے جبکہ تمام عمران خان کے چاہنے والے کارکن پوری طاقت کی ساتھ ایکشن کمیٹی کیساتھ کھڑے رہے۔ اس پر وضاحت طلب کی جانی چاہئیے۔

یہ بھی پڑھیں:انتخابات کی تیاریاں، پی ٹی آئی آزادکشمیر کا پارلیمانی بورڈ قائم، اہم شخصیات شامل

اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر اور سابقہ اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد کس کی اجازت سے نواز شریف کی آزادکشمیر پارٹی کے صدر شاہ غلام قادر کے ساتھ بیٹھ کر اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا۔ کیا یہ پارتی پالیسی کے خلاف بات نہیں ہے۔

کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ منحرف رکن سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف عدم اعتماد میں پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انوار الحق کو ووٹ دینے والے قیوم نیازی اور خواجہ فاروق کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے۔

Scroll to Top