واشنگٹن(کشمیر ڈیجیٹل) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیران ایران کے خلاف دوبارہ محدود فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ سعودی عرب،آئندہ 48 گھنٹے اہم
جبکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ اقدامات اس وقت زیر غور آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ذرائع کے مطابق ان اقدامات کو مذاکرات میں تعطل ختم کرنے کے ایک طریقے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چوہدری لطیف اکبر کا بطور قائم مقام صدارتی عہدہ ہائیکورٹ میں چیلنج
اخبار کے مطابق صورتحال سے آگاہ افراد کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاس مکمل فضائی بمباری کی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اختیار بھی موجود ہے۔
تاہم اس آپشن کو کم ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایرانی بندرگاہوں کیخلاف جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دینگے، پاسداران انقلاب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ زیادہ تر نکات پر اتفاق ہوگیا ہے ،اسلام آباد میں مذاکرات 20گھنٹے جاری رہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے ڈی وینس ، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اسلام آباد مذاکرات پر بریفنگ دی ،مذاکرات وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہوئے۔
امریکی جہازوں یا پرامن جہازوں پر جو ایرانی فائرنگ کرے گا اس کو تباہ کر دیا جائے گا،ایرانیوں کا کہنا ہے وہ سمندر میں بارودی سرنگیں بچھا چکے ہیں،ایران کی بحریہ اور ان کے بارودی سرنگیں بچھانے والے جہاز تباہ ہوچکے ہیں۔
ایران کسی سے بھی بہتر جانتا ہے کہ اس صورتحال کو کیسے ختم کیا جائے؟آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جلد شروع ہو جائے گی،اس میں دیگر ممالک بھی شامل ہوں گے۔




