دہلی میں مشتعل عوام نے ایک حاضر سروس بھارتی بریگیڈیئر اور ان کے بیٹے کی سرِعام درگت بنا دی، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ یہ واقعہ بھارت کی ‘آپریشن سندور’ میں عبرتناک شکست کے بعد عوامی غصے کا عکاس ہے۔
واقعے کے مطابق، دہلی میں عوام نے بدمعاشی دکھانے پر بریگیڈیئر اور ان کے بیٹے کو گھیر لیا اور ان پر مکوں اور تھپڑوں کی بارش کر دی۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگ ہارنے والی فوج کے افسران اب معصوم شہریوں پر وردی کا رعب جھاڑ رہے ہیں، جسے عوام نے مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جنرل یش مور بھی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صلاحیت کو مان گئے
آپریشن سندور اور بھارت کی ہزیمت:
واضح رہے کہ بھارت نے 22 اپریل 2025ء کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے ایک مبینہ دہشت گردی کے واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر “آپریشن سندور” کے نام سے ایک بڑی فوجی کارروائی کی۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات 80 طیاروں کی مدد سے میزائل حملے کیے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے نو مراکز تباہ کر دیے گئے ہیں۔
تاہم، پاکستان کے بھرپور جواب نے بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے ایک ہی ہلے میں دشمن کے پانچ طیارے مار گرائے، جن میں فرانس کے بنے ہوئے تین جدید اور نام نہاد ناقابلِ تسخیر ‘رافیل’ طیارے بھی شامل تھے۔ اس واقعے نے پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی کرائی اور رافیل طیاروں کو “را۔فیل” (RAW-FAIL) کا لقب ملا۔ یہاں تک کہ فرانس نے پاکستان کو مفت رافیل دینے کی پیشکش کی تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ نقص طیارے میں نہیں بلکہ اسے اڑانے والوں میں تھا۔
پاکستان کا “آپریشن بنیان المرصوص” اور ‘سندور’ کا اجڑنا:
10 مئی 2025ء کو پاکستان نے “آپرین بنیان المرصوص” کے تحت “الفتح ون میزائل” کی مدد سے تین ہزار کلومیٹر لمبی سرحد پر بھارت کے 26 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ صرف پانچ گھنٹوں میں دشمن کے دفاع کو پاش پاش کر دیا گیا، جس کے بعد بھارت اچانک جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہو گیا۔
مزید پڑھیں: بھارت کی لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
پاکستان نے “سندور” کو اجاڑ کر مودی کی سیاست اور بھارت کی علاقائی اجارہ داری کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ ‘سندور’ ہندو خواتین کے سہاگ کی نشانی ہے، اور اس کے اجڑنے کا مطلب مودی سرکار کی سیاسی “بیوگی” (ودوا) سے لیا جا رہا ہے۔ سکھ سکالرز کے مطابق، ‘سندور’ کی رسم مسلم حملہ آوروں کے دور میں بیاہتا خواتین کی پہچان کے لیے شروع ہوئی تھی تاکہ انہیں کنواری لڑکیوں سے الگ سمجھا جا سکے۔




