معاہدہ دسترس سے باہر نہیں ، مسعود پزشکیان کا ٹرمپ کو پیغام

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ دسترس سے باہر نہیں ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے پھر مذاکرات کا دعویٰ کردیا ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بات صدر پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی جنرل یش مور بھی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صلاحیت کو مان گئے

ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ رابطہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

بی بی سی کے مطابق ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اس گفتگو کے حوالے سے مختصر بیان جاری کیا ہے۔

ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آئے گا ، ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ہمیں وہ سب کچھ دے گا جو ہم چاہتے ہیں۔

فاکس نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے تقریباً ہر نکتے پر اتفاق سے آمادگی کا اظہار کر دیا تھا تاہم ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔

ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران ’مذاکرات کی میز سے اٹھا نہیںہے۔میرا خیال ہے وہ واپس آئیں گے اور ہمیں وہ سب کچھ دیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک: ایرانی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات بتا دیں

امریکی صدرنے چین کو خبردار کیا کہ اگر اس نے ایران کی فوجی مدد کی تو اس پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ موجودہ تنازع کے بعد تیل اور گیس کی قیمتیں بالآخر کم ہو جائیں گی۔

Scroll to Top