ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے برطانوی اخبار اور عالمی خبر رساں ایجنسی نے سنسنی خیز دعوے کیے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تہران کے وسط میں ہونے والے ایک حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہوئے ہیں، جس کے باعث ان کا چہرہ بری طرح متاثر اور ٹانگیں معذور ہو چکی ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق یہ حملہ اسی مخصوص کمپاؤنڈ پر کیا گیا تھا جہاں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ہولناک حملے میں خاندان کے دیگر افراد جاں بحق ہوئے جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے اور نچلے دھڑ کو شدید نقصان پہنچا۔ ان کی تقرری کے بعد سے اب تک وہ ایک بار بھی عوام کے سامنے نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی ویڈیو یا آڈیو منظرِ عام پر آئی ہے، جس نے ان کی حالت کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت پر شکوک و شبہات: ایرانی نائب وزیر کا اہم ترین بیان آگیا
امریکی دفاعی حکام نے بھی انٹیلیجنس معلومات کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا چہرہ زخموں کے باعث خراب ہو چکا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام اس معاملے پر متضاد بیانات دے رہے ہیں؛ بعض انہیں ’مکمل فعال‘ قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر معمولی زخمی ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ محدود انداز میں رابطوں کے ذریعے ریاستی فیصلوں میں حصہ لے رہے ہیں، تاہم ان کی عوامی عدم موجودگی نے ایران کے مستقبل کی قیادت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک: ایرانی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات بتا دیں
واضح رہے کہ مارچ 2026 میں ایران کی مجلسِ خبرگان نے انہیں نیا سپریم لیڈر مقرر کیا تھا۔ ایران کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک سپریم لیڈر کی تقرری اتنے شدید جنگی حالات اور ذاتی صدمے کے سائے میں ہوئی ہے۔ سپریم لیڈر کا عہدہ ایران میں روحانی اور عوامی مقام رکھتا ہے جہاں ان کا عوام کے سامنے آنا لازمی تصور کیا جاتا ہے، ایسے میں صرف تحریری پیغامات پر اکتفا کرنا برطانوی میڈیا کے دعوؤں کو تقویت دے رہا ہے۔




